رسائی کے لنکس

پاکستان: مجرموں اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرتی خواتین پولیس


پشاور میں خواتین کے پولیس سٹیشن میں سالانہ اوسطاً محض 50 شکایات درج کرائی جاتی ہیں۔ یہ تعداد مردوں کے پولیس سٹیشن میں درج کرائی جانے والی شکایات کی نسبت بہت کم ہے۔

شہزادی گیلانی، صوبہ ِ خیبر پختونخواہ میں پاکستانی پولیس کی ایک اعلیٰ اہلکار ہیں۔ لیکن بطور خاتون پولیس اور بطور ِ خاص صوبہ ِ خیبر پختونخواہ میں کام کرنا ان کے لیے بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔

پولیس میں نوکری کرنے کے لیے انہیں اپنے باپ کی حکم عدولی کرنا پڑی، اپنی شادی ختم کرنا پڑی اور اپنی بنیادی ٹریننگ کے لیے بھی قیمت ادا کرنا پڑی۔

اپنے 19 سالہ کیرئیر میں انسپکٹر شہزادی گیلانی اور ان کی ساتھی خواتین انسپکٹروں نے دہشت گردوں اور مجرموں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔

خیبر پختونخواہ میں خواتین بہت کم پولیس کا شعبہ اختیار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت صوبے بھر میں صرف 560 خواتین پولیس سے منسلک ہیں۔ گو کہ صوبے میں پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ اس تعداد کو اگلے ایک سال میں دو گنا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

صوبے میں 1994ء میں دو پولیس سٹیشنز کھولے گئے تھے۔ مگر سہولیات کے فقدان اور عملے میں فرائض میں کوتاہی جیسے مسائل کے باعث ان پولیس سٹیشنز کی کارکردگی متاثر کن ثابت نہ ہوئی۔

بچپن میں شہزادی گیلانی اپنے والد کی طرح فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتی تھیں۔ مگر پھر انہوں نے اپنے لیے پولیس کا شعبہ اختیار کیا۔ شہزادی کہتی ہیں کہ ان کا فیصلہ ان کے گھر والوں کے لیے حیران کن تھا۔

شہزادی کہتی ہیں، ’میرے بہن بھائیوں کا کہنا تھا کہ پولیس عورت کی عزت نہیں کرتی۔ مجھے پولیس میں شمولیت کے لیے بہت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔‘

روزیہ الطاف نے 16 برس قبل پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہیں اس ملازمت کے لیے نہ صرف چھ سال انتظار کرنا پڑا بلکہ انہیں اپنی ملازمت سے متعلق ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے 50 کے لگ بھگ درخواستیں بھی دینا پڑیں۔

اب وہ پشاور میں خواتین کے پولیس سٹیشن کی ہیڈ ہیں اور کہتی ہیں کہ گذشتہ چند برسوں میں چیزیں بہت تھوڑی سی بدلی ہیں۔

پشاور میں خواتین کے پولیس سٹیشن میں سالانہ اوسطاً محض 50 شکایات درج کرائی جاتی ہیں۔ یہ تعداد مردوں کے پولیس سٹیشن میں درج کرائی جانے والی شکایات کی نسبت بہت کم ہے۔

شہزادی گیلانی کہتی ہیں کہ اگر لوگ یہ دیکھیں گے کہ خواتین پولیس افسر اپنا کام اچھے طریقے سے سرانجام دے رہی ہیں تو وہ اس حوالے سے اپنا ذہن بدلیں گے۔
XS
SM
MD
LG