رسائی کے لنکس

عدالتی حکم نامہ مایوس کُن فیصلہ ہے: وکیل صفائی


عدالتی حکم نامہ مایوس کُن فیصلہ ہے: وکیل صفائی

عدالتی حکم نامہ مایوس کُن فیصلہ ہے: وکیل صفائی

’فیصلے کا متن پڑھیں تو لگتا ہے جیسے اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لیے فیصلہ لکھا گیاہے۔ اُس میں عدالت نے اپنا احاطہ اتنا وسیع کیا ہے کہ کسی کو بھی کسی زمرے میں لاکے persecuteکر سکتے ہیں‘

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل، عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کی طرف سے جمعے کو دیے گئے ’آپریٹو آرڈر‘ کے بارے میں کہا ہےکہ ’یہ ایک نہایت ہی مایوس کُن فیصلہ ہے‘۔

اُن کے الفاظ میں، ’فیصلے کا متن پڑھیں تو لگتا ہے جیسے اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لیے فیصلہ لکھا گیاہے۔ اُس میں عدالت نے اپنا احاطہ اتنا وسیع کیا ہے کہ کسی کوبھی کسی زمرے میں لاکے persecuteکر سکتے ہیں‘۔

اُنھوں نے یہ بات جمعے کو ’وائس آف امریکہ‘ سےبات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اُن کے بقول، جب سپریم کورٹ لوگو ں کو persecuteکرنے پر آجائے تو پھر بنیادی حقوق کو خدا حافظ ہی کردینا چاہیئے‘۔

عاصمہ جہانگیر کے مطابق، اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ’ہم واپس چلے گئے نیشنل سکیورٹی اسٹیٹ بننے، یعنی اب فوجوں کو آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُن کو ہمیشہ کے لیے ایک ’لیگل کور‘ مل گیا۔ کوئی اتنا بھولا یا سیدھا نہیں ہوتا پاکستان میں۔ ہم نے اونچ نیچ دیکھی ہے۔ مگر مجھے افسوس ہے ۔۔۔جوڈیشری کو ہم اپنے کندھوں پر چڑھا کہ یہاں لائے تھے، اِس لیے کہ ہم قانون کی حکمرانی چاہتے تھے‘۔

جسٹس (ر) وجیہ الدین نے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ کو ’یہ معاملہ سننے کا اختیار تھا‘، کیونکہ، پاکستان اور بھارتی سپریم کورٹ میں اِس طرح کے معاملات آتے رہے ہیں۔اُن کے بقول، بنیادی حقوق کا مطلب محض ایک فردِ واحد کے حقوق نہیں ہوا کرتے، بلکہ مشترکہ حقوق بھی ہوتے ہیں۔

آپریٹو آرڈر کا ذکر کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ خود حکومت کا یہ کہنا ہے کہ اِس معاملے کی چھان بین ہونی چاہیئے۔ اِسی بنیاد پر حکومت نے پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا ہے جو اِس وقت کام کررہا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کےردِ دعمل کے بارے میں اور اِس سوال پر کہ سپریم کورٹ اور پارلیمانی کمیٹی کے فیصلوں میں تضاد کی صورت میں کون سا فیصلہ زیادہ معتبر ہوگا، جسٹس (ر) وجیہ الدین کا کہنا تھا کہ جہاں پر معاملہ subjudiceہو، تو پارلیمان کے قوائد میں یہ بات شامل ہے کہ اُس میں پارلیمنٹ کوئی انکوائری یا کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کرسکتی۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG