رسائی کے لنکس

بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیری 'نوجوان' کی ہلاکت قابل مذمت: پاکستان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بھارتی کشمیر میں صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے اور وانی کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران بھی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اطلاعات کے مطابق ایک درجن سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک کشمیری نوجوان کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے وہاں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس ہفتے بھارتی سکیورٹی فورسز کے حکام کے مطابق حزب المجاہدین گروپ کے برہان وانی ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔

بھارتی کشمیر میں صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے اور وانی کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران بھی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اطلاعات کے مطابق ایک درجن سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

کشمیر دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان شروع ہی سے متنازع چلا آ رہا ہے اور اس کا ایک حصہ بھارت جب کہ ایک پاکستان کے زیر انتظام ہے۔

اتوار کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ایک بیان میں کہا کہ برہان وانی اور دیگر معصوم کشمیریوں کا مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل قابل مذمت ہے۔

ان کے بقول ایسے اقدام کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان کے اس بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 1989ء سے علیحدگی پسند تحریک چلی آ رہی ہے اور بھارت ان علیحدگی پسندوں کی حمایت کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔

لیکن اسلام آباد ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے اور وہ ان لوگوں کی صرف اخلاقی و سفارتی حمایت کرتا ہے۔

تاہم حالیہ دنوں میں اٹھنے والی تشدد کی لہر کے مبصرین کے نزدیک کچھ اور محرکات بھی ہیں۔

پاکستان میں دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار طلعت مسعود نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بظاہر کشمیر سے متعلق بھارتی حکومت کی پالیسی کو کشمیری عوام کی طرف سے حمایت حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

"میرے خیال میں جب تک وہاں کے عوام مطمئن نہیں ہوں گے اس قسم کے حالات برقرار رہیں گے اور معاملات مزید خراب ہوتے جائیں گے۔ بھارت کو سمجھنا چاہیئے اور وہاں کی جمہوری قوتوں خاص طور پر سول سوسائٹی، ان کو چاہیئے کہ اپنی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیئے کہ وہ اپنے رویے کو تبدیل کرے"۔

بھارتی کشمیر کی یونیورسٹی سے وابستہ سیاسی امور کے تجزیہ کار پروفیسر نور احمد بابا کہتے ہیں کہ کشمیر کے نوجوانوں میں مختلف وجوہات کی وجہ سے ایک اضطراب پایا جاتا ہے۔

" اس سیاسی صورت حال کی وجہ سے یہاں اقتصادی مواقع نا ہونے کے برابر ہیں اور نوجوان طبقے میں اضطراب پایا جاتا ہے اور ان میں نا امیدی کی سی صورت حال پیدا ہو گئی ہے اور عوام جے پی کی جو (کشمیر کی) پالیسی ہے اس پر بھی ناراض ہیں"۔

ان کا کہنا تھا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ امن عمل کو بحال کیا جائے اور حکومت مخالف دھڑوں کو بات چیت میں شامل کیا جائے جس سے امید کی فضا پیدا ہو گی اور ساتھ ہی ساتھ لوگوں خاص طور پر نوجوانوں میں اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG