رسائی کے لنکس

پاکستان کی وفاقی کابینہ مستعفی

  • یاسر منصوری

وزیراعظم گیلانی کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس (فائل فوٹو)

وزیراعظم گیلانی کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس (فائل فوٹو)

پاکستان کی وفاقی کابینہ کے تمام اراکین مستعفی ہو گئے ہیں تاکہ وزرا کی تعداد میں مجوزہ کمی کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔

پاکستان کو درپیش اقتصادی مشکلات کے پیش نظر سرکاری اخراجات میں کمی کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت نے حزب اختلاف کے دباؤ کے بعد ورزا کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو کابینہ کے آخری اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے وزرا کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی کابینہ نے کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی جن میں آئین میں اٹھارویں اور انیسویں ترامیم بھی شامل ہیں۔

اُنھوں نے مستعفی ہونے والی کابینہ کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کیا اور کہا کہ فروری 2008ء انتخابات کے بعد جب نئی حکومت اقتدار میں آئی تو پاکستان کو اقتصادی مسائل اور دہشت گردی کی وجہ سے انتہائی کٹھن صورتحال کا سامنا تھا لیکن ان کے بقول حکومت کی موثر حکمت عملی کی وجہ سے اب ملک بہتری کی راہ پر گامزن ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ تین سال کے دوران سٹاک ایکسچینج کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی جو حکومت کی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی سترہ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔

نئی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے وزیر اعظم گیلانی نے کوئی اعلان نہیں کیا تاہم جمعہ کو پیپلز پارٹی کے سربراہ صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کے ایک اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ نئی کابینہ میں ایسے ”ایماندار، قابل اور اْن وزرا کو دوبارہ شامل کیا جائے گا جن کی کارکردگی اچھی رہی۔“

مستعفی ہونے والے وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ وزیر اعظم گیلانی نئی کابینہ کا اعلان آئندہ چند زور میں کر دیں گے اور اس کے اراکین کی تعداد موجودہ وزرا سے کم ہوگی۔ نئی کابینہ کی تشکیل تک موجودہ وزرا عہدوں پر فائض رہیں گے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو عالمی مالیاتی فنڈ سے حاصل کیے گئے اربوں ڈالر کے قرضے نے سہارا دے رکھا ہے اور کابینہ کے اراکین کی تعداد میں کمی سے اقتصادی صورت حال میں کوئی خاطر خواہ بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی ہے لیکن ایسے اقدامات سے حکومت کو اقتصادی اصلاحات کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG