رسائی کے لنکس

آئی بی سے متعلق ایبٹ آباد کمیشن کی مبہم وضاحت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اخباری اطلاعات میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سفارش کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کرتے ہوئے آئی بی کو ایک ’’نااہل‘‘ ادارہ قرار دیا ہے، جس کا قومی سلامتی کے اُمور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

القاعدہ کے مفرور رہنما اُسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور یک طرفہ امریکی آپریشن میں اُس کی ہلاکت کے حقائق کا تعین کرنے والے ایبٹ آباد کمیشن نے خفیہ ادارے ’انٹیلیجنس بیورو‘ یا آئی بی کو وزیر اعظم کی ماتحتی سے نکال کر وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کی سفارش کی خبروں کو ’’من گھڑت، بے بنیاد اور قیاس آرائیوں‘‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔

اخباری اطلاعات میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سفارش کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کرتے ہوئے آئی بی کو ایک ’’نااہل‘‘ ادارہ قرار دیا ہے، جس کا قومی سلامتی کے اُمور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بدھ کو شائع ہونے والی ان خبروں پر اپنے مختصر بیان میں کمیشن نے انھیں یکسر مسترد کرنے کی بجائے صرف اتنی وضاحت کی ہے کہ ’’ایسی کسی رپورٹ یا حقائق کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو جاری نہیں کی گئی ہیں‘‘۔

کمیشن نے اپنی تحقیقات کے سلسلے میں آئی بی کے اُس وقت کے سربراہ جاوید نور کو بھی طلب کیا تھا تاہم انھوں نے اخباری اطلاعات کے مطابق اُسامہ بن لادن کے معاملے کو یہ کہہ کر اپنے ادارے کے اختیارات سے بالاتر قرار دیا تھا کہ اُن کا کام صرف سیاست دانوں پر نظر رکھنا ہے۔
XS
SM
MD
LG