رسائی کے لنکس

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کرنے کے علاوہ حکومت نے متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مزید موثر بنانے پر بھی زور دیا ہے۔

پاکستان میں جمعرات کو پہلا روزہ ہے اور ملک بھر کی مساجد میں بدھ کو نماز تراویح کا اہتمام ہو رہا ہے۔

رمضان کے مہینے میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے اور خصوصاً نمازوں کے اوقات میں مساجد اور امام بارگاہوں کی حفاظت کے لیے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت کی پولیس اور انتظامیہ کے ایک خصوصی اجلاس میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد اضافی نفری تعینات کرنے کے منصوبے کی منظوری دی گئی جب کہ صوبائی حکومتوں نے بھی ایسے ہیں اجلاسوں میں سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کرنے کے علاوہ حکومت نے متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مزید موثر بنانے پر بھی زور دیا ہے۔

ملک میں حالیہ ہفتوں کے دوران تشدد کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں میں مساجد اور امام بارگاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اسلام آباد میں ماہ رمضان کے دوران سکیورٹی کے انتظامات کے بارے میں وفاقی دارالحکومت میں پولیس کے ترجمان محمد نعیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تقریباً 1500 اہلکار مختلف مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے تعینات کیے جائیں گے۔

’’ریزرو پولیس کے اہلکاروں کو بھی مختلف مقامات پر تعینات کیا جائے گا جب کہ چار ایس پی صاحبان اس سارے عمل کے نگران ہوں گے۔ سارے تھانوں کی حدود میں ناکے لگائے جائیں گے، نماز کے اوقات میں گشت میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔‘‘

پاکستان کی وفاقی حکومت ملک میں امن و امان کی بہتری کو اپنی ترجیحات میں سے ایک گردانتی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان یہ کہہ چکے ہیں سلامتی کی صورتحال کو برقرار رکھنا گو کہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے لیکن ان کی وزارت اس ضمن میں صوبوں کو درکار ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے بارے میں ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے کل جماعتی اجلاس بھی طلب کر رکھا ہے جس میں پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG