رسائی کے لنکس

بھکر میں تعلیمی ادارے بند ہیں جب کہ شہر میں پولیس کی اضافی نفری کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع بھکر میں دو مذہبی گروپوں کے درمیان تصادم کے بعد ہفتہ کو بھی صورت حال کشیدہ رہی۔

کشیدگی کے باعث ضلع بھر میں ہفتہ کو بازار اور تعلیمی ادارے بند رہے جب کہ انتظامیہ نے قانون کی دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی جس کے تحت کسی بھی طرح کے اجتماع پر پابندی ہے۔

جمعہ کی شام ہی سے مساجد میں اعلانات کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں۔

مقامی پولیس کے ایک عہدیدار عمران مہدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جمعہ کی شام بھکر میں اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے لوگ شہر میں منعقدہ ریلی میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے کہ کوٹلہ جام کے علاقے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ان کا آمنا سامنا ہوا۔

اُنھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے سات کا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے جب کہ تصادم میں مارے جانے والوں میں تین شیعہ مسلک اور ایک بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والا شخص بھی شامل ہے۔

بھکر میں سکیورٹی انچارج عمران مہدی نے بتایا کہ تین قریبی اضلاع خوشاب، میانوالی اور سرگودھا سے بھی پولیس کی اضافی نفری بلائی گئی ہے اور اُن کے بقول صورت حال ضلعی انتظامیہ کے قابو میں ہے۔

’’حالات کشیدہ ہیں لیکن مکمل طور پر پولیس کے قابو میں ہیں….دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے، ضلع کی سرحدوں کو سیل کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ رینجرز اور پنجاب کانسٹیبلری کی نفری بھی موجود ہے۔‘‘

عمران مہدی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بیشتر کی نماز جنازہ ہفتہ کو ادا کر دی گئی اور اس دوران کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
XS
SM
MD
LG