رسائی کے لنکس

جوہری ہتھیاروں کی تلفی سے متعلق درخواست مسترد کی جائے: پاکستان

  • عشرت سلیم

ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کی عمارت

ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کی عمارت

پاکستان کے بقول مارشل آئی لینڈز کے دعوے کی سماعت عدالت کے دائرہ کار میں شامل نہیں اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر یہ درخواست ناقابل سماعت ہے۔

پاکستان نے عالمی عدالت انصاف سے کہا ہے کہ وہ مارشل آئی لینڈز کی طرف سے جوہری ہتھیار تلف کرنے کے متعلق پاکستان کے خلاف دائر کی گئی درخواست مسترد کرے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ جن معاملات میں پاکستان نے عدالت انصاف کے دائرہ کار کو تسلیم کیا ہے، جوہری ہتھیاروں کی تلفی ان میں شامل نہیں لہٰذا اس درخواست کو مسترد کیا جائے۔

جمعرات کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے عدالت میں ایک جامع تحریری جواب داخل کرایا ہے۔ پاکستان کے بقول مارشل آئی لینڈز کے دعوے کی سماعت عدالت کے دائرہ کار میں شامل نہیں اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر یہ درخواست ناقابل سماعت ہے۔

بحرالکاہل میں واقع جزائر کے مجموعے پر مشتمل ریاست مارشل آئی لینڈز نے دنیا کی نو جوہری طاقتوں کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواستیں دائر کی تھی جن میں مؤقف اخیتار کیا گیا تھا کہ یہ ممالک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت نیک نیتی کے ساتھ ہتھیاروں کی تلفی پر مذاکرات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

تاہم ان میں سے چھ ملکوں نے اس معاملے میں جواب دینے سے انکار کر دیا تھا جبکہ پاکستان، بھارت اور برطانیہ اپنی عالمی ذمہ داریوں کے تحت مارشل آئی لینڈز کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کے جواب دینے کے پابند ہیں۔

پیر کو عالمی عدالت انصاف نے ان درخوستوں پر کارروائی کا آغاز کیا تھا تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کیا عدالت مارشل آئی لینڈز کا مقدمہ سماعت کے لیے منظور کر سکتی ہے یا نہیں۔

بحرالکاہل میں واقع مارشل آئی لینڈز اور اس کے قریب 1940 اور 50 کی دہائی میں کئی جوہری دھماکے کیے گئے جن کے اثرات اب بھی وہاں کی آبادی میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے سرگرم کارکن ڈاکٹر اے ایچ نیئر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مارشل آئی لینڈز عالمی طاقتوں کے خلاف اپنے دعوے میں حق بجانب ہے۔

’’جب تک فضا میں جوہری دھماکے کرنے کی اجازت تھی اس وقت تک وہاں بہت دھماکے ہوئے جس کی وجہ سے وہاں کی فضا کے اندر اور وہاں کے لوگوں میں برے اثرات پائے گئے۔ وہاں کے رہنے والوں کا حق بنتا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ ہمیں جو نقصان پہنچایا گیا ہے اس کی تلافی کی جائے۔‘‘

تاہم انہوں نے کہا کہ صرف تلافی بڑی بات نہیں۔ ’’وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نقصان اٹھانے والے ہیں لہٰذا ان لوگوں سے یہ کہا جائے کہ انہوں نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہم جوہری ہتھیاروں کی مکمل تلفی کریں گے یہ اس پر عمل کیوں کیوں نہیں کر رہے، اس پر پیش رفت کیوں نہیں ہو رہی؟‘‘

1968 میں پاکستان، بھارت اور اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ملکوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایسے ہتھیار نہیں بنائیں گے جبکہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ملکوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو تلف کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

تاہم اس پر قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے اور اب بھی بڑے ممالک کے پاس ہزاروں کی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

اگرچہ پاکستان، بھارت اور اسرائیل نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے جبکہ شمالی کوریا اس سے دستبردار ہو چکا ہے مگر مارشل آئی لینڈز کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی تلفی عالمی قانون میں تسلیم شدہ اصول ہے اور اس پر پیش رفت ہونی چاہیئے۔

مگر پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کا مارشل آئی لینڈز کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں، لہٰذا اس کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں کوئی وجہ اور احساس ذمہ داری نظر نہیں آتا۔

پاکستان نے یہ بھی کہا کہ اس کا جوہری پروگرام اس کے دفاع اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے جو صرف اس کے داخلی دائرہ کار میں آتا ہے۔

مارشل آئی لینڈز کی درخواستوں کے بعد عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی تلفی پر دوبارہ بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG