رسائی کے لنکس

پاکستان سے سزائے موت کے مجرموں کی پھانسیوں کو روکنے کا مطالبہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یہ مطالبہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی وزیر اعظم نواز شریف کے نام مشترکہ طور پر لکھے گئے ایک کھلے خط میں کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی دو بین الاقوامی تنظیموں نے پاکستان سے سزائے موت کے مجرموں کو دی جانے والے پھانسیوں پر عمل درآمد روکنےاور سزائے موت پر چھ سال تک عائد رہنے والی عارضی پابندی کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی وزیر اعظم نواز شریف کے نام مشترکہ طورپر لکھے گئے ایک کھلے خط میں کیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے عرصے میں جن کو پھانسی دی گئی ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو جرم کے ارتکاب کے وقت نابالغ تھے اور وہ بھی جنہیں فوجی عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا دی گئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈم نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے جب سے پاکستان نے سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کی اس کے بعد سے تین سے زائد سزائے موت کے مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عسکریت پسندی اور عام جرائم کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بہتر راستہ اختیار کرنا ہو گا کیونکہ ان کے بقول بہت پہلے سے یہ دیکھا گیا ہے کہ سزائے موت ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے موثر نہیں ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کے ترجمان مصدق ملک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے جس تشویش کا اظہارکیا جارہا ہے ہمیں بھی اس پر تشویش ہے تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مشکل وقت سے گزررہا ہے اور ملک میں کچھ لوگ خوف کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں جسے ختم کرنا ضروری ہے۔

" جس ملک کے اندر دہشت گردی جیسے مخصوص حالات ہوں وہاں پر بدقسمتی سے آپ کو مخصوص اقدامات کرنے پڑتے ہیں ۔ حکومت نے پھانیسوں کو بحال کرنے کا فیصلہ کوئی آسانی سے نہیں کیا تھا اور اس کے اندر جن لوگوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں وہ وہ لوگ ہیں جو دہشت گرد ہیں اور ان کو سزا دی جارہی ہے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن ملکی مفاد میں یہ ضروری تھا"۔

گزشتہ سال پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس حملے میں اسکول بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا رہا ہے۔

حکومت کی طرف سے اس پابندی کے اٹھائے جانے کے وقت کہا گیا تھا کہ صرف دہشت گردی کی جرائم میں ملوث افراد کو ہی پھانسی دی جائے گا تاہم بعد میں اس کا اطلاق دیگر جرائم میں سزائے موت پانے والے مجرموں پر بھی کر دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG