رسائی کے لنکس

ذہنی مرض کے شکار مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد ملتوی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پچاس سالہ امداد علی صوبہ پنجاب کی وہاڑی جیل میں قید ہے اسے 2001 میں لاہور میں ایک امام مسجد کو قتل کرنے کے جرم میں ایک ذیلی عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ذہنی طور پر معذور سزائے موت کے ایک قیدی کی سزا پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا ہے۔

پچاس سالہ امداد علی صوبہ پنجاب کے ضلع وہاڑی کی جیل میں قید ہے اسے 2001 میں لاہور میں ایک امام مسجد کو قتل کرنے کے جرم میں ایک ذیلی عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔

امداد علی نے لاہور ہائی کورٹ میں اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا اور وہاڑی کی ضلعی عدالت کی طرف سے اس کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے بلیک وارنٹ جاری کر تے ہوئے اس پر عمل درآمد کے لیے 20 ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

تاہم پاکستان میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم 'جسٹس پراجیکٹ پاکستان ' کی طرف اس کی سزا روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

اپیل کی سماعت کے بعد عدالت عظمی نے اس کی سزا کو عارضی طور پر روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اس کی اپیل کی آئندہ سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی ایک عہدیدار سارہ بلال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں امداد علی کی سزا پر عملدرآمد روکے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

"ہمیں یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ سپریم کورٹ نے ان کی سزا پر عمل درآمد عارضی طور روک دیا ہے انہوں نے مقدمے کی سماعت کے لیے آئندہ ہفتے تاریخ مقرر کی ہے ہمیں بہت امید ہے کہ بالآخر سپریم کورٹ میں وہ ثبوت پیش ہو جائیں جو امداد کی بیماری کے ثبوت ہیں جس کو پیش کرنے کا پہلے موقع ہی نہیں ملا۔ جب یہ ثبوت حتمی طور پر ان (عدالت) کے سامنے رکھا جائے گا اس کا فیصلہ امداد کے حق میں ہو گا۔"

سارہ بلال نے کہا کہ جن ڈاکٹروں نے جیل میں جا کر امداد علی کا معائنہ کیا ہے ان کا بھی کہنا ہے کہ وہ "شیزوفرینیا" کے دماغی عارضے میں مبتلا ہے اور ان کے بقول ایسے کسی قیدی کو سزائے موت دینا کسی بھی قانون کے مطابق جائز نہیں ہے۔

" ایک ایسا قیدی جس کا ذہنی توازن درست نہیں ہے اس کو پھانسی دینا بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی اور ہمارے اپنے قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس معاملے کی وضاحت کر دے گا۔"

پاکستان میں سزائے موت کے تقریباً آٹھ ہزار قیدی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔

دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد حکومت نے سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد عارضی پابندی کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد اب تک تقریباً چار سو کے لگ بھگ مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG