رسائی کے لنکس

امریکی ایلچیوں کافلسطینی انتظامیہ کے صدرکودیا جانے والا مراسلہ


امریکی ایلچیوں کافلسطینی انتظامیہ کے صدرکودیا جانے والا مراسلہ

امریکی ایلچیوں کافلسطینی انتظامیہ کے صدرکودیا جانے والا مراسلہ

امریکہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو آزاد ریاست قائم کیے جانے کے لیے دی جانے والی قرارداد پر ویٹو کرنے سے بچنا چاہتا ہے۔ اِس لیے، اُس نے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں کہ فلسطینی انتظامیہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے جانے سے باز رہے: بوسٹن گلوب

اخبار ’بوسٹن گلوب‘ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ’ایک جملے کی غلطی‘۔ یہ اُس خط کے بارے میں ہے جو فلسطین کو اقوام متحدہ میں جانے سے روکنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے دو خصوصی نمائندوں نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کو دیا۔

اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو آزاد ریاست قائم کیے جانے کے لیے دی جانے والی قرارداد پر ویٹو کرنے سے بچنا چاہتا ہے۔ اِس لیے، اُس نے بھرپور سفارتی کوششیں کیں کہ فلسطینی انتظامیہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے جانے سے باز رہے۔اِسی لیے، اُس نے اپنے دو نمائندے ڈینس راس اور ڈیوڈ ہیل کو صدر عباس سے بات کرنے کے لیے فلسطین بھیجا۔

اخبار لکھتا ہے کہ صدر عباس کے مشیروں کے مطابق اِن دونوں نمائندوں نے ایک خط فلسطینی راہنما کو دیا جس میں اقوام متحدہ میں جانے کے بجائے اسرائیل سے براہِ راست بات چیت سے یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

لیکن اِن میں جِن شرائط کا ذکر کیا گیا تھا اُن کے مطابق فلسطینیوں کو اسرائیل کی جائز سکیورٹی کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہوگا اور اس کے علاوہ 1968ء سے لے کر اب تک آبادی میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں اُن کا بھی ۔ اِن آبادیوں کی تبدیلی سے مراد یہودی بستیاں تھیں جو فلسطینی سرزمین پر تعمیر کی گئی ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ فلسطینی یہ نہیں مان سکتے کہ اِن علاقوں میں یہودی بستیوں کا قیام صرف اِس لیے عمل میں آیا کہ آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیل کی باقائدہ پالیسی ہے کہ وہ فلسطین کی اس زمین پر دعوے کو مسترد کرتے ہوئے یہاں آبادیوں کو قائم کرنا جاری رکھے۔

اخبار لکھتا ہے کہ ایسا خط دینے سے امریکی نمائندوں نے محمود عباس پر یہ واضح کردیا ہے کہ امریکہ یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے یا اُنھیں ہٹانے کے لیے اسرائیل پر کبھی دباؤ نہیں ڈالے گا۔

اخبار لکھتا ہے کہ اس خط کی وجہ سے فلسطینیوں کا اقوام متحدہ جانے کا ارادہ اور مضبوط ہوگیا۔

اخبار کے مطابق اقوام متحدہ میں جاری بحث کا چاہے کوئی بھی نتیجہ نکلے، لیکن ایک بات تو واضح ہے کہ اس سارے معاملے میں عرب دنیا میں امریکہ کی ساکھ کمزور ہوئی ہے۔ اِس لیے حکومت کو اِن نمائندوں سے جواب طلبی کرنی چاہیئے۔

’امریکی ہائیکروں کی رہائی کے معاملے میں مسٹر احمدی نژاد کو کوئی کریڈٹ نہیں جاتا‘۔ یہ عنوان ہے اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک اداریے کا ۔ اخبار گذشتہ روز ایرانی جیل سے دو امریکی کوہ پیماؤں کی دو سال سے زائد عرصے بعد رہائی کے پسِ منظر میں لکھتا ہے کہ ایران کے صدر احمدی نژاد نے ہر سال ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب سے قبل اپنی پروپیگنڈہ مہم چلانا شعار بنا لیا ہے۔

اخبار کے مطابق، کبھی وہ نیم پختہ سفارتی تجاویز کا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں اور اِس بار اُنھوں نے دو امریکیوں کو 26ماہ تک اپنی قید میں رکھنے کے بعد رہا کیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے اپنے دو شہریوں کی رہائی کے لیے غیر معمولی کوششیں کی ہیں اور اِن کوششوں میں اومان سمیت اہم اتحادی ملکوں سے تعاون حاصل کیا ہے اور تب جاکر امریکی شہری اپنے گھر لوٹنے کے قابل ہوئے ہیں۔ لہٰذا، اِس رہائی کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرنے والے ایرانی صدر احمدی نژاد کو اس انداز میں بھی دیکھنا چاہیئے کہ وہ اپنے ملک میں ایک ایسے شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں جو ملک کے تباہ کُن حالات کا دھارا بدلنے کے لیے اختیارات اور طاقت سے محروم ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG