رسائی کے لنکس

فلسطین کی امداد روکنے پر امریکی وزیرِ دفاع کی کانگریس پر تنقید


US Defense Secretary Leon Panetta speaks in Tel Aviv , Israel Oct. 3, 2011.

US Defense Secretary Leon Panetta speaks in Tel Aviv , Israel Oct. 3, 2011.

امریکی وزیرِدفاع لیون پنیٹا نے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی 200 ملین ڈالرز کی امداد معطل کرنے پر امریکی قانون سازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پیر کو اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں اپنے اسرائیلی ہم منصب ایہود براک کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ "ان فنڈز کو روکنے کا یہ کوئی موقع نہیں"۔

پنیٹا نے کہا کہ امریکی حکام امن معاہدہ پر گفتگو کے لیے ایک ایسے وقت میں اسرائیل اور فلسطین پر زور دے رہے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ ان کے بقول "نازک" دور سے گزر رہا ہے ۔

دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز روکنے والے قانون سازوں کے ساتھ "شدت" سے مذاکرات میں مصروف ہے ۔

واضح رہے کہ فلسطینی انتظامیہ اپنے سالانہ بجٹ کو پورا کرنے کے لیے غیر ملکی امداد پر انحصار کرتی ہے۔

بیرونی دنیا کے لیے امریکی امدادی ایجنسی 'یو ایس ایڈ' کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ کانگریس کی جانب سے فلسطینی انتظامیہ کو فراہم کیے جانےوالے فنڈز روکنے کے باعث کچھ منصوبے متاثر ہوئے ہیں تاہم حکام نے ان کی تفصیل نہیں بتائی۔

فلسطینی حکام نے کانگریس کے اس اقدام کو امن کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس اقدام سے اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت کے حصول کی فلسطینی کوششوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

امریکی قانون سازوں نے فلسطین کی امداد معطل کرنے کا قدم فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں مکمل رکنیت کے حصول کی درخواست دائر کرنے کے ردِ عمل میں اٹھایا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس اقدام کی سخت مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے امن کا واحد راستہ فریقین کے مابین براہِ راست مذاکرات ہیں۔

پریس کانفرنس سے قبل لیون پنیٹا نے یروشلم میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو اور اپنے اسرائیلی ہم منصب ایہود براک سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

اسرائیل آمد سے قبل امریکی وزیرِ دفاع نے مغربی کنارے میں فلسطین کے صدر محمود عباس اور وزیرِ اعظم سلام فیاد سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔ پنیٹا دورہ اسرائیل کے اختتام پر منگل کو مصر جائیں گے۔

یروشلم میں اپنی پریس کانفرنس میں امریکی وزیرِ دفاع نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کے دو ریاستی حل کی جانب بڑھنے کے لیے "غیر معمولی اقدامات" اٹھاِئیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض مبینہ یہودی انتہا پسندوں نے شمالی اسرائیل کے علاقے بدوئین میں ایک مسجد کو نذرِ آتش کردیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم اور صدر شمعون پیریز نے مذکورہ واقعہ کی شدید مذمت کی ہے جسے پولیس نے ایک انتقامی کاروائی قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ مغربی کنارے کا ایک یہودی آباد کار اور اس کا شیر خوار بیٹا گزشتہ ماہ اس وقت مارے گئے تھے جب ان کی گاڑی فلسطینی باشندوں کے پتھراؤ کے باعث حادثہ کا شکار ہوگئی تھی۔

XS
SM
MD
LG