رسائی کے لنکس

دہشت گردوں کی پذیرائی: امریکہ کی طرف سےفلسطینی اہل کاروں کی سخت مذمت


دہشت گردوں کی پذیرائی: امریکہ کی طرف سےفلسطینی اہل کاروں کی سخت مذمت

دہشت گردوں کی پذیرائی: امریکہ کی طرف سےفلسطینی اہل کاروں کی سخت مذمت

اوباما انتظامیا نے فلسطینی اہل کاروں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، جِس نےحالیہ دِٕٕنوں میں پبلک مقامات کےنام رکھ کر اور سرکاری بیانات جاری کرکے، اُس کے بقول، دہشت گردوں کی ستائش کی ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے جمعرات کو کہا کہ دہشت گرد جِنھوں نے سولین افراد کو قتل کیا اُنھوں نے اسرائیل فلسطین امن کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے، جسے ختم ہونا چاہیئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اشتعال دلانے کے جرم پر امریکہ فلسطینی رہنماؤں کو جوابدہ بنائے گا۔

اسرائیل کے چینل 10نیٹ ورک نے بتایا ہے کہ مغربی کنارے کے شہر رملا کی ایک سڑک کو حالیہ دِٕنوں میں بم تیار کرنے والے حماس کے ایک سربراہ کے نام منسوب کردیا ہے، جسےاسرائیل نے1996ء میں غزا کی پٹی میں ہلاک کردیا تھا۔

اسرائیل نے 1990ء کے عشرے میں اسرائیلیوں کے خلاف خود کش بم حملوں کا الزام یحیٰ عیاش پر الزام عائد کیا تھا۔


اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ ایک سڑک کو عیاش کے نام سے منسوب کرنا ایک گھناؤنا عمل ہے، اور دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا کہ اِس کی سختی کے ساتھ مذمت کریں۔

یہ سڑک رملا میں فلسطینی صدارتی احاطے کے سامنے واقع ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے میڈیا سے متعلق دفتر نے ‘یروشلم پوسٹ’ کو بتایا کہ سڑک کا نام رکھنا کو ئی نیا عمل نہیں ، اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ اُس نے ایسے لوگوں کے نام سے گلیوں کو منسوب کیا ہے جنھوں نے عربوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

گذشتہ ماہ، فلسطینی صدر محمود عباس کی فتح پارٹی کے سرگرم کارکنوں نے غیر سرکاری طور پر رملا کے ایک اہم چوراہے کا نام ایک خاتون دہشت گرد کے نام سے منسوب کیا۔ جلال مغربی نے 1978ء میں دہشت گرد حملہ کرتے ہوئے 37اسرائیلیوں کو ہلاک کیا تھا۔

اُسے آزاد ریاست کے لیے کی جانے والی فلسطینی جدو جہد کی ایک عظیم قومی شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔ مسٹر عباس کی حکومت نے گذشتہ ماہ چوراہے کو سرکاری طور پر اُن کے نام سے منسوب کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا، لیکن امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے دورے کے پیشِٕ نظر اُسے مؤخر کر دیا تھا۔

محکمہٴ خارجہ کے ترجمان کراؤلی نے جمعرات کوکہا کہ امریکہ کو، اُن کے بقول ،فلسطینی اتھارٹی کی طرف سےیروشلم کے ساتھ یہودیوں کے رابطوں کومسترد کرنے کے حالیہ بیان پر بھی تشویش ہے۔

گذشتہ ماہ، یروشلم کے پرانے شہر میں یہودی آبادی میں واقع یہودی عبادتگاہ کا نام تبدیل کرنے پر فلسطینی عہدے داروں نے اسرائیل کی مذمت کی تھی۔

فلسطینیوں نے اِسے قریبی الاقصیٰ مسجد کو مسمار کرکے اُس کی جگہ تصوراتی مندر قائم کرنے کے اسرائیلی منصوبے کا حصہ قرار دیا۔

کراؤلی نے کہا کہ یہودی مقامات کی تعمیرِ نو اور تزئین کے بارے میں بیان کیے گئے فلسطینی کلمات اُس بھروسے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو جاری کرنے کے لیے درکار ہیں۔

XS
SM
MD
LG