رسائی کے لنکس

برازیل میں فلسطین ایمبیسی کا سنگ بنیاد، مسئلہ کے حل کے لیے دنیا نیا منصوبہ تجویز کرے: عباس


فلسطینی صدر محمود عباس جمعہ کو برازیل کے دارالحکومت میں فلسطینی سفارت خانے کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس جمعہ کو برازیل کے دارالحکومت میں فلسطینی سفارت خانے کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے برازیل میں جمعہ کے روز فلسطینی سفارت خانے کی نئی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا اور امید ظاہر کی کہ جنوبی امریکہ کے دوسرے ممالک بھی برازیل کی پیروی کرتے ہوئے فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کریں گے۔

محمود عباس کا یہ دورہ رواں ماہ کے آغاز میں برازیل کی جانب سے کیے جانے والے اس اعلان کے بعد ہو رہا ہے جس میں برازیلین حکومت نے 1967 کی اسرائیل-عرب جنگ سے پہلے کی حد بندیوں کے مطابق قائم کی جانے والی مجوزہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

صدر عباس نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک نیا منصوبہ تجویز کریں۔ برازیل میں فلسطینی سفارت خانے کا سنگ بنیا رکھنے کے بعد ایک تقریر میں جسے ویسٹ بینک میں بھی دکھایا گیا، صدر عباس نے خطے میں استحکام کے لیے موجودہ کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے امریکہ، یورپ، روس اور اقوام متحدہ پر الزام لگایا کہ وہ فلسطین، اسرائیلی تنازع کوبجائے حل کرنے کے صرف ٹال رہے ہیں۔

فلسطینی رہنما نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کے حل کے لیے ایسا منصوبہ بنائیں جسکی بنیاد اقوام متحدہ کی قراردادیں ہوں۔ ان قراردادوں کے تحت عالمی برادری نے مطالبہ کیا تھا کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔

صدر عباس نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شمالی یروشلم اور ویسٹ بینک میں امریکہ اسرائیل کو تجاوازات قائم کرنے سے روکنے میں ناکام ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی امریکہ کے دیگر ممالک بشمول ارجنٹینا، بولیویا اور ایکواڈور بھی مجوزہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔

فلسطینی صدر اپنے دورہ کے دوران دارالحکومت برازیلیا میں فلسطینی سفارت خانے کی نئی تعمیر کی جانے والی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھنے کے علاوہ نومنتخب برازیلین صدر دلما روئوسیف کی اتوار کو ہونے والی تقریبِ حلف برداری میں بھی شرکت کرینگے۔

جمعرات کے روز فلسطینی صدر نے برازیلیا میں عرب رہنمائوں سے ملاقات کی جس میں مشرقِ وسطی کی صورتِ حال اور فلسطین-اسرائیل امن مذاکرات کے تعطل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG