رسائی کے لنکس

یہودی بستیاں: فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کی بین الاقوامی مذمت کا خیر مقدم


فلسطینی مصالحت کار نے متنازع مشرقی یروشلم میں اسرائیل کی طرف سے یہودی بستیاں بسانے کے منصوبے پر ہونے والے بین الاقوامی مذمت کا خیرمقدم کیا ہے۔

فلسطینی مصالحت کار صائب ارکات نے ہفتے کے روز مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں چار کے گروپ ’کوارٹٹ‘ کے بیان کو سراہا ہے۔

جمعے کے روز کوارٹٹ نے کہا تھا کہ بین الاقوامی برادری اسرائیل کے یک طرفہ اقدام کو قبول نہیں کرے گی۔ اس نے ماسکو میں 19 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں اس صورتِ حال کا جائزہ لینے کا عزم کیا ہے۔

کوارٹٹ میں امریکہ، اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور روس شامل ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر آئے ہوئے یورپی یونین کے ایک چوٹی کے سفارت کار نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ جلد از جلد مذاکرات بحال کرے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے ہفتے کے روز اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اسرائیل کے آباد کاری کے منصوبے سے حال ہی میں شروع ہونے والے امن مذاکرات پٹری سے اتر جائیں گے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ آباد کاری کا منصوبہ اور اس کا وقت امریکہ کے ’توہین آمیز‘ ہے۔ اس منصوبے کا اعلان اس وقت کیا گیا تھا کہ جب امریکی نائب صدر جو بائڈن یروشلم میں بالواسطہ اسرائیل فلسطین کا آغاز کرنے والے تھے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے منصوبے کے اعلان کے وقت پر معذرت کی ہے، اور کہا ہے کہ وہ اس منصوبے سے آگاہ نہیں تھے۔

اس منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم میں 1600 نے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ فلسطینی اسی جگہ پر مستقبل میں اپنی ریاست کا دارالحکومت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG