رسائی کے لنکس

اسرائیلی فوج کی اپنے افسروں کے خلاف تادیبی کارروائی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اِن عہدے داروں نے ایک سال پہلے غزہ کی پٹی کے علاقے میں اسرائیل کے حملوں کے دوران اقوامِ متحدہ کے ایک احاطے کے قریب توپخانے سے گولا باری کی منظوری دی تھی

اسرائیلی فوج نے اپنے اُن دو سینئر افسروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہے، جنہوں نے ایک سال پہلے غزہ کی پٹی کے علاقے میں اسرائیل کے حملوں کے دوران اقوامِ متحدہ کے ایک احاطے کے قریب توپخانے سے گولا باری کی منظوری دی تھی۔

فوج نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایک داخلی چھان بین سے پتا چلا ہے کہ اُس واقعے میں ملوث اسرائیلی فوجیوں نے جنگ کے اُن ضابطوں کی خلاف ورزی کی تھی ، جن میں آبادی والے علاقوں کے قریب اُس قسم کے توپخانے کے استعمال سے منع کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں اسرائیلی فوج پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُس نے 2009 میں 15 جنوری کو غزہ سِٹی میں اقوامِ متحدہ کی امداد اور تعمیرات کی ایجنسی یا یو این آر ڈبلیو اے کے احاطے پر آگ لگانے والے فاسفورس کے گولے فائر کیے تھے۔اسرائیل نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اُس کی فوجیں اُس علاقے میں حماس کے جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہی تھیں۔

اب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اُس لڑائى میں شریک دو اسرائیلی کمانڈروں نے ایک ایسے طریقے سے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا، جس سے دوسروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔

لیکن فوج نے ایک اسرائیلی اخبار کی اس رپورٹ کی تردید کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے سفید فاسفورس کے گولے استعمال کرنے کا حکم دینے پر دو سینئر افسروں کے خلاف انضباطی کارروائى کی ہے۔

اسرائیلی گولے یو این آر ڈبلیو اے کے احاطے میں گرے تھے ، جہاں سینکڑوں عام فلسطینی شہریوں نے پناہ لی ہوئى تھی ۔ فاسفورس کے گولوں سے آگ بھڑک اُٹھی، جس نے بھاری مقدار میں امدادی سامان کو تباہ کردیا اور تین افراد زخمی ہوگئے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اُس نے غزہ میں فوجی کارروائیوں میں سفید فاسفورس والا گولا بارود اُن بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق استعمال کیا تھا ، جن کے تحت کھلے علاقے میں اپنی فوجوں کو اوٹ فراہم کرنے کے لیے اس قسم کے گولا بارود کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

لیکن جنگی جرائم کے لیے اقوامِ متحدہ کے وکیلِ استغاثہ رچرڈ گولڈ سٹون کی ایک رپورٹ میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُس نے غزہ کے گنجان آباد علاقوں سفید فاسفورس کا غیر مناسب استعمال کیا تھا۔

اسرائیل کی فوج نے گولڈ سٹون کی رپورٹ کے ایک باضابطہ جواب کے طور پر 15 جنوری 2009 کے واقعے کی اپنی چھان بین کی رپورٹ ، جمعے کے روز اقوامِ متحدہ کے عہدے داروں کے حوالے کردی تھی۔

XS
SM
MD
LG