رسائی کے لنکس

امریکہ اور اسرائیل فلسطینی جماعت حماس کو ایک دہشت گرد گروپ سمجھتے ہیں۔ الفتح کے برعکس، حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا

فلسطینی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا آغاز دوبارہ کیا جا سکتا ہے، اور یہ کہ، الفتح اور حماس کے درمیان معاہدہ امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔

گذشتہ ماہ الفتح اور حماس کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دونوں جماعتیں فلسطین میں مخلوط حکومت کے قیام پر راضی ہوئی تھیں۔

یہ معاہدہ اس لیے بھی ایک سنگ ِمیل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان گذشتہ سات برسوں سے تعلقات سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر ِاعظم نیتن یاہو کی جانب سے فلسطینی جماعتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے رد ِعمل پر امریکہ کی کوششوں سے ہونے والے امن مذاکرات کو ختم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ اسرائیلی وزیر ِاعظم کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسی فلسطینی حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے جسے حماس کی حمایت حاصل ہو۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل فلسطینی جماعت حماس کو ایک دہشت گرد گروپ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

الفتح کے برعکس، حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔

’وائس آف امریکہ‘ کو دئیے جانے والے انٹرویو میں فلسطینی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات جاری رہنے چاہیئں، اور یہ کہ، ان مذاکرات پر حماس کی موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیئے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ حماس اور الفتح کے درمیان معاہدے سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات پر فرق نہیں پڑنا چاہئیے۔
XS
SM
MD
LG