رسائی کے لنکس

فلسطینی امن معاہدے کیلیے سنجیدہ ہیں، محمود عباس


فلسطینی امن معاہدے کیلیے سنجیدہ ہیں، محمود عباس

فلسطینی امن معاہدے کیلیے سنجیدہ ہیں، محمود عباس

فلسطینی صدر محمود عباس نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

مغربی کنارے میں واقع فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈکوارٹر میں ملاقات کے لیے آنے والے سو سے زائد اسرائیلی قانون سازوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں پہ مشتمل ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس کا کہنا تھا کہ ان کے اس پیغام کی تشہیر کی جائے کہ فلسطینی خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے حصول کیلیے ہونے والے براہِ راست مذاکرات اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر نہ روکے جانے کے باعث ستمبر سے تعطل کا شکار ہیں۔

دریں اثنا اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری کی جانے والی اس رپورٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں اسرائیل کو مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینی باشندوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

امریکی شہر نیویارک میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے اپنی جاری کردہ تازہ رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں بسنے والی فلسطینیوں کےلیے ترقی کے مواقع محدود کیے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب علاقے میں صیہونی بستیوں کو پھلنے پھولنے کے تمام مواقع میسر ہیں۔

تنظیم نے اپنی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ سے اپیل کی تھی کہ اسرائیل کی جانب سے اس قسم کی "امتیازی پالیسیاں" اختیار کرنے کے جواب میں اس کی امداد کا کچھ حصہ روکا جائے۔

رپورٹ پر اپنے ردِ عمل میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کےلیے سرگرم گروپس کا "دوغلا پن" ضرور سامنے آنا چاہیے، جو ان کے مطابق دنیا میں بدترین استحصالی نظام کی بنیاد پر چلنے والی حکومتوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں اور "اسرائیل جیسے جمہوری ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں"۔

XS
SM
MD
LG