رسائی کے لنکس

فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرانے کے عزم کا اظہار


فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرانے کے عزم کا اظہار

فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرانے کے عزم کا اظہار

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ مجوزہ آزاد فلسطینی ریاست کو اقوامِ متحدہ کی رکنیت دلانے کے عزم پر قائم ہیں۔

صدر عباس نے یہ بات مغربی کنارے کے شہر رملہ میں بدھ کو فلسطینی کونسل کے ارکان سے ملاقات میں کہی جس میں رواں برس ستمبر میں فلسطینی ریاست کو عالمی ادارے کی رکنیت دلانے کے مجوزہ منصوبہ پر غور کیا گیا۔

تاہم صدر عباس نے واضح کیا کہ فلسطین کو عالمی ادارے سے تسلیم کرانے کا منصوبہ مشرقِ وسطیٰ امن عمل کی بحالی اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا متبادل نہیں۔

فلسطینی کونسل کے اجلاس سے قبل صدر عباس نے گزشتہ ہفتے ترکی کے شہر استنبول میں مختلف ممالک میں تعینات فلسطینی سفارت کاروں سے بھی ملاقات کی تھی جس میں فلسطین کو آزاد ریاست کا درجہ دلانے کے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی تھی۔

فلسطینی نیوز ایجنسی 'وافا' کا کہنا ہے کہ اجلاس میں صدر عباس کا کہنا تھا کہ وہ تصادم سے گریز کے لیے منصوبہ کے حوالے سے امریکہ اور یورپ سے رابطے کریں گے۔

منگل کو اسرائیل اور فلسطین کے نمائندوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی مذکورہ منصوبہ پر اظہارِ خیال کیا تھا۔ دونوں سفیروں نے سلامتی کونسل میں جاری اسرائیل فلسطین تنازعہ پر جاری بحث کے حتمی سیشن سے خطاب کیا جو ستمبر میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل منعقد کی جارہی ہے۔

اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ میں فلسطینی مبصر ریاد منصور کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو عالمی ادارے سے تسلیم کرانے کی کوششوں سے امن عمل کو نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ ان کے بقول اس عمل سے تنازعہ کے دو ریاستی حل میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی انتظامیہ اسرائیل کی جانب سے خلوصِ نیت کے ساتھ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا مزید انتظار نہیں کرسکتی۔

تاہم فلسطینی سفیر نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان کی حکومت فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر اقوامِ متحدہ کا رکن بنانے کی کوشش کرے گی، جس کی سلامتی کونسل سے منظوری ضروری ہے، یا صرف جنرل اسمبلی سے فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کرانے پر ہی اکتفا کرے گی۔

ادھر اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر رون پروسر نے فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ براہِ راست مذاکرات کا عمل بحال کریں۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے نائب سفیر روز میری ڈی کارلو نے اجلاس کو بتایا کہ ان کا ملک فلسطینیوں کی جانب سے خود کو آزاد ریاست تسلیم کرانے کے یکطرفہ اقدام کی حمایت نہیں کرے گا۔

امریکہ سلامتی کونسل کے 'ویٹو' پاور رکھنے والے پانچ مستقل اراکین میں شامل ہے اور پہلے ہی یہ واضح کرچکا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی جانب سے کی جانے والی ایسی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

XS
SM
MD
LG