رسائی کے لنکس

فلسطینیوں کی جانب سے یونیسکو کی رکنیت کی کوشش

  • مرڈیتھ بوئل
  • آمنہ خان

فلسطینیوں کی جانب سے یونیسکو کی رکنیت کی کوشش

فلسطینیوں کی جانب سے یونیسکو کی رکنیت کی کوشش

بیت الحم میں لاکھوں افراد ہر سال اس کلیسا کی زیارت کے لیے آتے ہیں جو روایت کے مطابق حضرت عیسی ٰ کی جائے پیدائش پر بنایا گیا ہے۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ یونیسکو اس گرجا گھر کو عالمی ورثہ قرار دے دے ، لیکن ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک ایسا ہونا مشکل ہے ۔ اسی لیے ستمبر میں اقوام متحدہ میں رکنیت کی درخواست پیش کرنے کے بعد فلسطینیوں نے یہی درخواست یونیسکومیں بھی پیش کی ہے۔ امریکہ میں فلسطین کی تنظیم آزادی کے نمائندے مائن رشید ارکات کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم اقوام متحدہ میں اپنی دی گئی درخواست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اور دوسرے ہم اپنے ثقافتی اور مذہبی مقامات کی حفاظت بھی چاہتے ہیں۔

یونیسکو کے انتطامی بورڈ نے امریکہ کی جانب سے مخالفت کے باوجود اس درخواست کو ابتدائی طور پر منظور کر لیا تھا۔ یہ عالمی ادارہ افغانستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے۔ فلسطین کو رکنیت دینے سے ممکن ہے یونیسکوکو امریکہ کی جانب سے ملنے والی امدادروک دی جائے ، جو تقریبا 7 کروڑ ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے اور جس سے اس ادارے کے بجٹ کا تقریبا 20 فی صد حصہ پورا ہوتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ کا کہناہے کہ یونیسکو میں ایسے کسی اقدام کے ذریعے کوئی ایسی فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آئے گی جو محفوظ ہو، اور اسرائیل کے ساتھ خود مختاری اور پر امن بقائے باہمی کے اصول پر کام کر رہی ہو۔

لیکن فلسطینی نمائندے ارکات کہتے ہیں کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان 20 سال تک مذاکرات کے باوجود بھی کوئی فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا رخ کرنا فلسطینیوں کی جانب سے ایک سفارتی، سیاسی، پر امن اور جائز اقدام ہے تاکہ اقوام متحدہ فلسطینیوں کے مسائل پر توجہ دے سکے اور فلسطینی زمین پر اسرائیل کا قبضہ ہمیشہ کےلیے ختم کرا سکے۔

فلسطینیوں کو امید ہے کہ یونیسکو کی رکنیت اور حضرت عیسی ٰ کی جائے پیدائش سے منسوب کلیسا کو عالمی ورثہ قرار دلوانے میں کامیابی ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف ایک قدم ثابت ہو گی ۔

XS
SM
MD
LG