رسائی کے لنکس

یہ ٹیم اپنی ابتدائی رپورٹ 22 مئی کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔

پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے کی تفتیش کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت تشکیل کردہ چھ رکنی مشترکہ تحقییقاتی ٹیم 'جے آئی ٹی ' نے پیر سے کام شروع کر دیا ہے۔

یہ مشترکہ ٹیم اسلام آباد میں واقع جوڈیشیل اکیڈمی میں قائم کی گئی جہاں پیر کو وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف آئی اے' کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ضیا احمد کی سربراہی میں اس کا پہلا اجلاس ہوا جس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ضوابط کار پر غور کیا گیا۔

مشترکہ ٹیم کے دیگر اراکین میں پاکستان اسٹیٹ بینک، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، قومی احتساب بیور 'نیب' اور فوج کے دو انٹلی جنس اداروں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس سے ہے۔

اس کمیٹی کا اجلاس بند کمرے میں ہوا اور اسلام آباد پولیس کے طرف سے جوڈیشیل اکیڈمی کے ارد گرد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

یہ ٹیم پاناما لیکس کے معاملے سے متعلق مزید تحقیقات پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں قائم کیے گئے تین رکن بینچ کے تحت کام کرے گی۔

واضح رہےکہ پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد 20 اپریل کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا تھا، جس میں اس معاملے کی مزید تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ’جے آئی ٹی‘ بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے بیٹوں حسن اور حسین نواز سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ تحقیقاتی عمل میں حصہ بنیں۔

اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنی رپورٹ 60 روز میں سپریم کورٹ میں پیش کرنی ہو گی جب کہ ہر 15 روز کے بعد اس ٹیم کو تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے بھی عدالت کو آگاہ کرنا ہو۔

یہ ٹیم اپنی ابتدائی رپورٹ 22 مئی کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو عدالت عظمیٰ نے مشترکہ ٹیم تشکیل دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹیم اگر ضروری سمجھے تو وہ ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کر سکتی ہے۔ عدالت نےیہ بھی کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی عدالت عظمیٰ کے ہدایت پر قائم کی جا رہی ہے اس لیے پاکستان بھر میں تمام حکام 'جے آئی ٹی' کو معاونت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG