رسائی کے لنکس

پاناما: صدر کی طرف سے مالی ضابطہ عمل پر نظر ثانی کی تجویز


پاناما کے صدر ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔

پاناما کے صدر ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔

ہوان کارلوس باریلا نے کہا ہے پاناما ان تجاویز کا دوسرے ممالک کے ساتھ بھی تبادلہ کرے گا تاکہ اقتصادی شعبے میں مجموعی طور پر شفافیت بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔

پاناما کے صدر ہوان کالوس باریلا کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت پاناما دستاویزات سامنے آنے کے بعد ملک کے مالی ضابطہ عمل کا جائزہ لینے کے لیے ایک خود مختار کمیشن تشکیل دے گی۔

بدھ کو ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک مختصر خطاب میں انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ ضوابط کا جائزہ لینے اور مالی اور قانونی نظام میں شفافیت کو بہتر بنانے کے اقدامات تجویز کرنے کے لیے ’’ملکی و غیر ملکی ماہرین‘‘ کمیشن میں شامل ہوں گے۔

ہوان کارلوس باریلا نے کہا ہے پاناما ان تجاویز کا دوسرے ممالک کے ساتھ بھی تبادلہ کرے گا تاکہ اقتصادی شعبے میں مجموعی طور پر شفافیت بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔

دریں اثنا، فرانس نے پاناما کو ’’ٹیکسوں سے بچنے‘‘ والے ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے اور اقتصادی تعاون اور ترقی کی بین الاقوامی تنظیم (او ای سی ڈی) پر زور دیا ہے کہ وہ بھی ایسا کرے۔

او ای سی ڈی کے سیکرٹری جنرل اینحل گوریا نے کہا ہے کہ پاناما پیپرز کے انکشافات سے ظاہر ہوا ہے کہ پاناما کا اقتصادی شعبہ ’’رازداری کے کلچر‘‘ کو برداشت کرتا ہے اور کہا کہ یہ آخری ملک ہے جو اپنے گاہکوں کو قانونی اداروں سے پیسے چھپانے کی اجازت دیتا ہے۔

اس سکینڈل میں ملوث پاناما کی لا فرم موساک فونسیکا نے کہا ہے کہ اس ہفتے اس کے دفتر سے چوری ہونے والی ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات کو ہیکرز نے چرایا اور فرم کے اندر سے کسی نے یہ افشا نہیں کیے۔ ان دستاویزات میں دنیا بھر کے طاقتور، امیر اور مشہور افراد کے بیرون ملک بینک اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔

موساک فونسیکا کے شریک بانی رامن فونسیکا نے منگل کو کہا کہ ہیکنگ کسی دوسرے ملک سے کی گئی مگر انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔

’’ ہمارا یہ مفروضہ ہے اور ہم اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘‘

رامن فونسیکا نے کہا کہ ان کی فرم نے گزشتہ چالیس سالوں میں لگ بھگ 250,000 آف شور کمپنیاں قائم کی ہیں اور پاناما میں اپنی دستاویزات چوری کی شکایت درج کرائی ہے۔

یہ دستاویزات افشا ہونے کے بعد دنیا کے متعدد رہنما اپنی سرمایہ کاری کا دفاع کرنے اور یہ بتانے پر مجبور ہوئے ہیں کہ انہوں نے ٹیکس ادا کیے یا نہیں۔

آف شور یعنی بیرون ملک کمپنیوں کا قیام غیرقانونی نہیں مگر ایسے اکاؤنٹس کو دولت چھپانے اور ٹیکسوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سکینڈل سامنے آنے کے بعد آئس لینڈ کے وزیراعظم وہ پہلے عالمی رہنما ہیں جو مستعفی ہو گئے ہیں۔

اس سکینڈل سے برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، روس کے صدر ولادیمر پوتن، پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور یوکرین کے صدر پٹرو پوروشنکو کے علاوہ فرانس کی قوم پرست رہنما میرین لی پین بھی متاثر ہوئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG