رسائی کے لنکس

امریکی وزیرِ دفاع ایشیائی ملکوں کے دورے پر


وزیر دفاع لیون پنیٹا

وزیر دفاع لیون پنیٹا

دورے کے پہلے مرحلے میں وہ انڈونیشیا پہنچیں گے،جہاں سے وہ جاپان اور بعد ازاں جنوبی کوریا جائیں گے

امریکہ کےوزیرِدفاع لیون پنیٹا جمعہ کو ایشیائی ملکوں کےدورے پرروانہ ہوگئے ہیں جس کے دوران وہ خطے میں امریکہ کے اتحادیوں کو مستقبل میں بھی باہمی تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائیں گے۔

وزیرِ دفاع کا منصب سنبھالنے کے بعد پنیٹا کا یہ ایشیا کا پہلا دورہ ہے جِس کا مقصد خطےمیں امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع دورے کے پہلے مرحلے میں انڈونیشیا پہنچیں گےجہاں سے وہ جاپان اور بعد ازاں جنوبی کوریا جائیں گے۔

پنیٹا کا دورہ ایشیا ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکہ عراق اور افغانستان میں جاری اپنی فوجی مہمات کےخاتمے کی تیاری میں مصروف ہےا ور اب اس کی توجہ ایشیا میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور اثرورسوخ اور چینی قیادت کے کئی ممالک کےساتھ تنازعات کی جانب مبذول ہورہی ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے 'سینٹر آف امریکن پروگریس' سے منسلک دفاعی تجزیہ کار لارنس کارب کا کہنا ہے کہ گو کہ پنیٹا کے دورہ ایشیا میں چین کا پڑاوٴ شامل نہیں لیکن اس کے باوجود ان کے دورے کی بیشتر مصروفیات کا محور بیجنگ رہے گا۔

کارب کے بقول امریکہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایشیا میں موجود اپنےدوستوں اوراتحادیوں کو کھل کر یہ پیغام دے کہ امریکہ چین کو اپنی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کی آڑ میں متنازعہ جزائر، متنازعہ سرحدوں اور معاشی منڈیوں تک رسائی جیسے معاملات پر اپنے ایجنڈے کو توسیع دینےکی اجازت نہیں دے گا۔

ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ پنیٹا کے دورہ ایشیا میں چین کا پڑاوٴ شامل نہ ہونے کی کوئی سیاسی وجہ نہیں ہے بلکہ اپنی مصروفیات کے پیشِ نظر وہ چین نہیں جارہے۔

انڈونیشیا میں اپنے قیام کے دوران امریکی وزیرِ دفاع سیاحتی جزیرے بالی میں 'آسیان' میں شامل جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کریں گے۔

دورہ جاپان کے دوران پنیٹا جاپان کو امریکی ہتھیاروں کی مجوزہ فروخت اور جاپان کے جزیرے اوکی ناوا پر قائم امریکی فوجی ہوائی اڈے کی جزیرے ہی کے ایک دوسرے مقام پر منتقلی کے منصوبے پر مذاکرات کریں گے۔ اوکی ناوا کے کئی رہائشی مذکورہ منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

پنیٹا کے دورہ ایشیا کا آخری پڑاوٴ جنوبی کوریا ہوگا جہاں وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر پیانگ یانگ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر جنوبی کورین حکام سے تبادلہ خیال کریں گے۔

XS
SM
MD
LG