رسائی کے لنکس

وزیر دفاع نے کہا کہ وہ ’دوسری ترمیم‘ کے حامی ہیں، جِس کی رو سے امریکیوں کو اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے، اور یہ کہ وہ نہیں سمجھتے کہ مسٹر اوباما کی تجاویز کسی طور اِس حق کے آڑے آتی ہیں

امریکی وزیر دفاع نے متنازع گن کنٹرول کے بارے میں پیش کردہ تجاویز کی حمایت کی ہے، جو صدر براک اوباما کی سطح پر غور و غوض کے بعد منظر پر آئی ہیں۔

اٹلی میں امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے لیون پنیٹا نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ اسکول کے بچوں کے تحفظ کے لیے اقدام ضروری ہے، تاکہ اُن کے بقول، وہ درندہ صفت جو بچوں کو ہدف بنانے کے درپے ہیں، اُن کی ایسے مہلک ہتھیاروں تک رسائی ممکن نہ رہے۔

پنیٹا نے فوجیوں سے یہ بھی کہا کہ صدر کی تجاویز معقول ہیں۔

اُن کے بقول، ایسے کارتوس جِن سے بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوتی ہیں۔ میرا مطلب ہے، جنگ میں تو آپ کو اِس نوعیت کے بھاری کارتوسوں کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن عام زندگی میں بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کرنے والے اسلحے کی آخر کس کو ضرورت پڑ سکتی ہے؟

پنیٹا نے صدر کی تجاویز کے دفاع کی بات 173ویں ایئربورن بریگیڈ کمبیٹ ٹیم کے ایک فوجی کی طرف سے کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

صدر اوباما کے منصوبے کے تحت حملے کے لیے استعمال ہونے والے اسلحے پر بندش اور اسلحہ خریدنے کے خواہاں کسی بھی شخص کے لیے دنیا بھر میں رائج بیک گراؤنڈ چیکس کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پنیٹا نے کہا کہ وہ ’دوسری ترمیم‘ کے حامی ہیں جِس کی رو سے امریکیوں کو اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے، اور یہ کہ وہ نہیں سمجھتے کہ مسٹر اوباما کی تجاویز کسی طور اِس حق کے آڑے آتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG