رسائی کے لنکس

کاغذ کے بے جا استعمال سے جنگلات کو پہنچنے والا شدید نقصان

  • جولی گرانٹ

کاغذ کے بے جا استعمال سے جنگلات کو پہنچنے والا شدید نقصان

کاغذ کے بے جا استعمال سے جنگلات کو پہنچنے والا شدید نقصان

1990ء کی دہائی میں جب کمپیوٹر کا دور شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اب کاغذ کا استعمال بہت کم ہوجائے گا کیوں کہ خط و کتابت اور دستاویزات الیکٹرانک شکل میں ہوں گی۔ لیکن یہ توقع پوری نہیں ہوئی ہے۔ ہمارے دفاتر اور گھروں میں جتنا کاغذ استعمال کیا جا رہا ہے اس پر ماحول کے ماہرین کو شدید تشویش ہے۔

ایلن ہرشکووٹزAllen Hershkowitz جانتے تھے کہ کمپیوٹر سے ہماری دنیا میں جو انقلاب آیا ہے اس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں کاغذ کا استعمال ختم نہیں ہوگا۔ جب لوگو ں نے ای میل کا استعمال شروع کیا اسی زمانے سے وہ نیشنل ریسورسز ڈیفنس کونسل National Resources Defense Council میں سائنسدان کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’بالکل ابتدائی دور میں ہی National Resources Defense Council تک میں ہم نے دیکھا کہ لوگ ایسے کاغذات کو بھی چھاپ رہے ہیں جنھیں دوبارہ ٹائپ کیا جانا تھا یا بالکل غیر ضروری طور پرای میل پرنٹ کر رہے ہیں ۔‘‘

ہرشکووٹز کہتے ہیں کہ ہماری دنیا میں رہنے والے دوسروں لوگوں کے مقابلے میں امریکی سات گُنا زیادہ کاغذ استعمال کرتے ہیں۔ کمپیوٹر پر ٹائپ کیے ہوئے کاغذات کے پرنٹ نکالنا تو محض ابتدا ہے۔ پیکنگ میں، سگریٹ میں، ٹشو پیپر اور ٹوائلٹ پیپر میں، غرض بے تحاشا کاغذ استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں جس کام کے لیے لوگ لوٹا اور پانی استعمال کرتے ہیں، مغربی معاشروں میں کاغذ یعنی ٹوائلٹ پیپر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہرشکووٹز خوب جانتے ہیں کہ کاغذ کی اتنی زیادہ مانگ سے کیسی تباہی آ رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم دس ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم جنگلات کو کاٹ کر ان کے درختوں سے ٹوائلٹ پیپر بنا رہے ہیں۔ اس کاغذ کو ہم چند سیکنڈ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بھلا یہ کوئی سمجھداری کی بات ہے؟

ہرشکووٹز کہتے ہیں کہ جنگلات کا اس طرح صفایا کرنے سے دنیا میں جتنی گرمی بڑھتی ہے اور آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے وہ دنیا کے تمام ٹرکوں، بسوں، ہوائی اور بحری جہازوں سے پیدا ہونے والی آلودگی سے زیادہ ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ ہم ان درختوں کو تین پلائی والے ٹوائلٹ پیپر بنانے میں استعمال کر ڈالتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے پٹرول پینے والی گاڑی Hummer ڈرائیو کرنا۔

یورپ اور ایشیا میں بیشتر ٹوائلٹ پیپر استعمال شدہ کاغذ سے بنایا جاتا ہے جب کہ بین الاقوامی پریس میں امریکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ انہیں تین پلائی والا ٹائلٹ پیپر چاہیئے چاہے اس کے لیے دنیا کے قدیم جنگلات ختم کیوں نہ ہو جائیں۔

پانچ برس تک ماحول کے تحفظ کے لیے لڑنے والی تنظیم گرین پِیس ، Kleenex ٹشو بنانے والی کمپنی، Kimberly Clark Corporation کے خلاف مظاہرے کرتی رہی کیوں کہ یہ کمپنی اپنی مصنوعات بنانے کے لیے کینیڈا کا Boreal Forest اور دنیا بھر میں جنگلات کاٹ رہی تھی۔ Greenpeace نے اپنا یہ احتجاج حال ہی میں ختم کیا جب Kimberly Clark نے وعدہ کیا کہ اگلے سال تک، اس کے ٹشو کی تیاری میں جو میٹریل استعمال ہو گا اس کا 40 فیصد حصہ استعمال شدہ کاغذ سے حاصل کیا جائے گا۔

کاغذ بنانے والی بیشتر کمپنیاں اپنی اشیاء کی تیاری میں استعمال شدہ میٹیریل استعمال کرنے کے خلاف نہیں ہیں۔ Dan Sandoval ایک رسالے Recycling Today میں ایڈیٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بیشتر کارڈ بورڈ کے ڈبوں اور اخبارات میں پہلے ہی استعمال شدہ کاغذ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ استعمال شدہ کاغذ سے بننے والے ٹوائلٹ پیپر کی تیاری میں عام طور سے دفتروں کا پرانا کاغذ استعمال ہوتا ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم چھاپنے اور لکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لیکن اکثر یہ ہوتا ہے کہ دفتروں میں تمام بے کار چیزیں اکٹھی کر دی جاتی ہیں۔ اس طرح سامان تو بہت سا مِل جاتا ہے لیکن وہ صاف ستھرا نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا’’جب آپ تمام چیزیں ایک جگہ جمع کر رہے ہوتے ہیں تو اس میں سبھی کچھ ہوتا ہے۔ ٹیلیفون ڈائریکٹریاں، نوٹس، پلاسٹک کی ونڈو والے لفافے اور بہت سا سامان۔ اس طرح چیزوں کی مقدار تو بہت ہو جاتی ہے لیکن اس کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی۔‘‘

Sandoval کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کاغذ بنانے والی مِلوں کو صفائی کرنے والی مشینوں میں بہت زیادہ پیسہ لگانا پڑے گا اور بعض اوقات اس میں درخت کاٹنے کے مقابلے میں زیادہ پیسہ خرچ ہو جاتا ہے۔ پھر بھی دنیا بھر میں کمپنیوں کا رجحان یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ استعمال شدہ چیزوں سے کام لیا جائے۔

ماحول کے تحفظ کی جستجو کرنے والے چاہتے ہیں کہ کاغذ بنانے والی کمپنیاں اور زیادہ تیزی سے استعمال شدہ چیزوں کوکام میں لانا شروع کریں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ صارفین بھی اپنا رول ادا کریں۔ دفتر میں وہ چاہتے ہیں کہ لوگ کم کاغذات پرنٹ کریں اور گھر پر وہ چاہتے ہیں کہ لوگ تین پلائی والا ٹوائلٹ پیپر خریدنا بند کر دیں۔

Environment Report کی تیاری میں Park Foundation اور the Gaylord and Dorothy Donnelley Foundation کی طرف سے مدد ملی ہے۔ آپ اس سلسلے کی مزید رپورٹیں environment report dot org پر سُن سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG