رسائی کے لنکس

'نو فی ٹل لو فی'۔۔ یعنی فیس میں کمی تک کوئی فیس کی ادائیگی نہیں ہوگی۔۔ کے بینر اٹھائے والدین احتجاج کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں نجی اسکولوں کی انتظامیہ نے فیسوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے

کراچی: پاکستان کے مختلف شہروں میں ان دنوں کئی نجی اسکولوں کے طلبہ کے والدین سڑکوں پر مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ مظاہرے اور احتجاج نجی اسکولوں کی جانب سے فیسوں میں اضافے کے خلاف کئےجا رہے ہیں۔

اِن دنوں، ماہانہ فیس کی رقم میں اضافے کے خلاف لاہور، کراچی اور پشاور میں والدین کے مظاہروں کی خبریں مسلسل ذرائع ابلاغ کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ رواں ہفتے کراچی سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

کراچی میں چند روز سے نجی اسکول انتظامیہ کے خلاف ماہانہ بنیادوں پر فیس کی رقم میں اضافے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

منگل کو بھی کراچی پریس کلب کے سامنے والدین کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

مظاہرے میں شریک والدین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی فیسوں میں اضافہ کسی طور قابل قبول نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نجی اسکول فیسوں کی رقم میں اضافے کا فیصلہ واپس لے۔

والدین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی فیسوں میں یکدم زائد رقم کے اضافے سے والدین کو ایک دھچکا لگا ہے۔ اسکولوں کی فیسوں میں اضافہ بجٹ پر بھاری بوجھ ہے جس کی ہر ماہ ادائیگی مشکل ہے۔

ادھر، اسکول انتظامیہ کی جانب سے والدین کے اس مظاہرے کا کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اسکولوں کا فیس کی مد میں اضافے کا کوئی فیصلہ واپس نہیں لیا گیا۔ اس فیصلے پر والدین اور طلبہ پریشان ہیں۔

منگل کے روز ہی سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کی جانب سے نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافے کے خلاف تحریک التوا پیش کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اخباری نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے فیسوں میں من مانا اضافہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔

ادھر گزشتہ ہفتے پشاور کے نجی اسکول فیسوں میں اضافے پر والدین نے احتجاج کیا۔ اسی طرح، گزشتہ روز لاہور شہر میں بھی اسی معاملے پر مظاہرہ کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG