رسائی کے لنکس

کراچی: سیکڑوں گمشدہ بچوں کے والدین کا دکھ


کراچی: گمشدہ بچوں کے والدین ارباب اختیار سے بچوں کی بازیابی کی اپیل کررہے ہیں

کراچی: گمشدہ بچوں کے والدین ارباب اختیار سے بچوں کی بازیابی کی اپیل کررہے ہیں

کراچی میں گمشدہ بچوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے شہر سے ہر ماہ تقریبا 20 سے 30 بچے لاپتہ ہوتے ہیں: فلاحی تنظیم کا دعویٰ

کراچی سے گمشدہ ہوجانے والے شہباز کی والدہ اپنی آنکھوں میں آنسو لیے منتظر ہیں کہ کہیں سے ان کا نوجوان بیٹا واپس آجائے۔

'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں انھوں نے اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونےکے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا 16 سالہ بیٹا شہباز پچھلے نو ماہ سے لاپتہ ہے اور اس کا کچھ اتا پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے؟

وہ غمگین لہجے میں بتاتی ہیں کہ انہوں نے بیٹے کی گمشدگی کی ایف آئی آر بھی درج کرائی ہے مگر کہیں سے کوئی خبر نہیں ملتی، راتوں کی نیند اڑگئی ہے، کوئی کچھ نہیں بتاتا سب خاموش ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "ایف آئی آر درج کرانے کے بعد پولیس تھانوں میں بھی کئی چکر لگائے مگر کہیں سے بیٹے کی کوئی اطلاع نہیں ملی"۔

شہباز چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا اور نویں جماعت کا طالب علم تھا جو اسکول ٹائم کے بعد موٹرمکینک کا کام کرکے گھر کی کفالت میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتا تھا۔ اکیس مئی کو بھی روزانہ کی طرح کام پر گیا مگر پھر واپس نہیں آیا۔

شہباز کی والدہ کی طرح کراچی کے سینکڑوں والدین ایسے ہیں جو اپنے بیٹوں کے گمشدہ ہوجانے کے باعث سخت تشویش اور پریشانی میں مبتلا ہیں اور منتظر ہیں کہ کہیں سے ان کے پیارے بچوں کی کوئی خبر یا معلومات مل جائے۔

گزشتہ روز کراچی پریس کلب میں بچوں کی گمشدگی کے واقعات میں مددگار ایک غیر سرکاری تنظیم 'روشنی' ہیلپ لائن کی جانب سے 30 والدین کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس میں کراچی سے لاپتہ ہوجانےوالے بچوں کی گمشدگی اور اغواء جیسی وارداتوں کی جانب ارباب اختیار کی توجہ دلائی گئی۔

اس پریس کانفرنس میں کسی کی ماں، کسی کے باپ نے اپنے اپنے بچوں کی گمشدگی کے واقعات سنائے اورمیڈیا نمائندوں کے ذریعے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ عام افراد کے بچوں کی گمشدگی کے واقعات کا نوٹس لیں۔

والدین کا کہنا تھا کہ اگر کسی بڑے باپ کا بیٹا لاپتہ ہوجائے تو پولیس کی رات کی نیندیں اڑجاتی ہیں اور تین دن کے اندر اندر اس بچے کو بازیاب کرالیا جاتا ہے مگر جب غریب کا بچہ اغوا اور لاپتہ ہوجائے تو کسی کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی۔

'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں غیر سرکاری تنظیم کے پروگرام آفیسر احمد رضا کا کہنا تھا کہ "کراچی میں گمشدہ بچوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس کے لیے کہیں بھی کسی قسم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے حکومت کی جانب سے ایسا کوئی ادارہ موجود نہیں جو گمشدہ اور اغواء ہوجانے والے بچوں کے اعداد و شمار مرتب کرے"۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کی تنظیم اپنی مدد آپ کے تحت گمشدہ بچوں کی تلاش کیلئے والدین کے ساتھ مل کر ان کی رہنمائی کرتی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ کراچی شہر سے ہر ماہ تقریبا 20 سے 30 بچے لاپتہ ہوتے ہیں۔

بچوں کے اغوا کیسز پر کام کرنے والے ایڈوکیٹ نوید احمد نے 'وی او اے' سے گفتگو میں کہا کہ "اگر حکومت بچوں کی حفاظت کیلئے ایک ہیلپ لائن نمبر یا ایسا کوئی ادارہ تشکیل دے جہاں ایسے والدین کی داد رسی ہوسکے تو اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایاجاسکتا ہے"۔

ان کے بقول اگر کوئی چھوٹا بچہ گھر کا راستہ بھول جائے اور اسے رہنمائی کی ضرورت ہو تو وہ امدادی نمبر اس بچے کو بھی پتہ ہونا چاہیے جس کے لیے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ نہیں ہوسکتا تو 'روشنی' کی جانب سے جاری کردہ ہیلپ لائن نمبر کو حکومتی سطح پر پھیلایاجائے تاکہ ایک عام بچے کو بھی اس سے آگاہی ہو۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'پاکستان پینل کوڈ' بچوں کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دیتا ہے مگر پولیس قانونی تفتیش کرنے میں حیلے بہانے کرتی ہے اور کئی والدین کو بچوں کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی ار درج کرانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال صرف کراچی سے 2736 بچے لاپتہ ہوئے جن میں 66 فیصد لڑکے اور 34 فیصد لڑکیاں تھیں۔ گمشدہ ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں 6 سے 16 سال تک بتائی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے بچوں کے حقوق کے عالمی کنوینشن پر دستخط کر رکھے ہیں حجس کے تحت سال 2011ء میں 'چائلڈ رائٹس ایکٹ' بھی پاس کیاجاچکا ہے۔

اس قانون کے منظور ہونے کے 60 دن کے اندر اندر حکومت کو ایک اتھارٹی تشکیل دینا تھی مگر اس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
XS
SM
MD
LG