رسائی کے لنکس

فیس بک پر شائع کی گئی یہ اپیل ریاست فلوریڈا میں کرسٹی ہارڈنگ کی نظر سے بھی گزری جو خود بھی ایک چھوٹی بچی کی ماں ہیں۔ کرسٹی نے فیصلہ کیا کہ اگر انکا گردہ آریانہ کے گردے سے میچ کر گیا تو وہ آریانہ کو اپنا گردہ عطیہ کریں گی

بہت سارے لوگوں کے لیے فیس بک کا محض ایک ہی مصرف ہے اور وہ ہے دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہنا۔ مگر سماجی رابطے کی ویب سائیٹس زندگی کے دیگر بہت سے معاملات میں بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک ایسی ہی مثال ہے امریکہ میں بسنے والے ان نوجوان والدین کی، جنہوں نے اپنی بیٹی کی بیماری کے لیے سوشل میڈیا کی مدد لینے کا سوچا۔

ریاست مینی سوٹا کے جیریمی بُوتھ اور ایشلی بُوتھ کی دو سالہ بیٹی آریانہ گُردوں کے ایک جان لیوا مرض میں مبتلا ہے۔ بچی میں گُردوں کی اس بیماری کی تشخیص اس وقت ہوئی جب آریانہ کی عمر محض سات ہفتے تھی۔

جیریمی بُوتھ کا کہنا ہے کہ، ’اپنی بچی کو اس تکلیف میں دیکھنا بہت مشکل تھا۔ اس کے گردوں کا ڈائلیسز روزانہ ہوتا تھا اور ڈائلیسز کی بنا پر ہی اسے ہر روز ایک نئی زندگی ملتی تھی‘۔

اسی لیے آریانہ کے لیے جیریمی نے فیس بک پر ایک اپیل شائع کی جس میں بچی کے لیے گردوں کا عطیہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

فیس بک پر شائع کی گئی یہ اپیل ریاست فلوریڈا میں کرسٹی ہارڈنگ کی نظر سے بھی گزری جو خود بھی ایک چھوٹی بچی کی ماں ہیں۔ کرسٹی نے فیصلہ کیا کہ اگر انکا گردہ آریانہ کے گردے سے میچ کر گیا تو وہ آریانہ کو اپنا گردہ عطیہ کریں گی۔

جب جیریمی بُوتھ اور ان کی بیگم کو ہسپتال سے فون پر مطلع کیا گیا کہ کرسٹی کا گردہ ان کی بیٹی کے گردے سے میچ کر گیا ہے تو آریانہ کی والدہ بہت جذباتی ہو گئیں۔

ایشیلی بُوتھ کا کہنا تھا کہ، ’میں اس وقت خوشی کے مارے رونا چاہتی تھی، ہنسنا چاہتی تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا‘۔

ننھی آریانہ کا آپریشن مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔
XS
SM
MD
LG