رسائی کے لنکس

پیرس حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں مغرب مخالف بیانات


لورے میوزئم، پیرس

لورے میوزئم، پیرس

ترک تجزیہ کار، فہیم تسکین، نے غیرجانبدار اخبار، ’ریڈیکل‘ میں تحریر لکھا ہے کہ داعش کا ’برتھ سرٹیفیکیٹ‘ 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے تیار کیا تھا

نور زاہد

مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا میں شائع ہونے والی کچھ میڈیا رپورٹس اور بیانات میں پیرس میں ہونے والے حملوں کا الزام داعش کے شدت پسندوں پر نہیں بلکہ مغرب اور اُس کے مؤقف پر دھرا گیا ہے۔

مراقش سے دبئی تک مسلمان اور عرب ملکوں اور حکومتوں میں اِن حملوں کی زیادہ تر مذمت کی گئی ہے، جب کہ مقامی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات میں تجزیہ کاروں نے مختلف انداز اپنایا ہے۔

ترک تجزیہ کار، فہیم تسکین، نے غیرجانبدار اخبار، ’ریڈیکل‘ میں تحریر لکھا ہے کہ داعش کا ’برتھ سرٹیفیکیٹ‘ 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے تیار کیا تھا۔

اُنھوں نے خلیج کے تیل کی دولت سے مالامال ملک، سعودی عرب کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے، جو امریکہ اور فرانس کا قریبی اتحادی ہے، جس نے، بقول فہیم، ’سلفی نظریے کی مالی معاونت کی ہے، جو دولت اسلامیہ کے شدت پسند نظرئے کا منبہ ہے‘۔

ترکی کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبار، ’حریت‘ کی ہیدلائن ہے: ’دہشت گردی کے خلاف لبرٹی، مساوات اور یکجہتی‘؛ جب کہ روزنامہ ’زمان‘ کے صفحہٴ اول پر تحریر ہے: ’ہم دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں‘۔ یہ اخبار 13 مختلف زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔

قدامت پسند ترک میڈیا کا سخت ردِ عمل

تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ دِنوں کے دوران، ترکی کے قدامت پسند میڈیا کی اکثریت نے فرانس اور مغرب پر نکتہ چینی کی ہے۔

ترکی کے غیرجانبدار اخبارات کے کام پر حکومتی قدغنیں اور کریک ڈاؤن اثر انداز ہوتا ہے اور جس چیز کو شائع کرنے کی اجازت ہوتی ہے اُس سے سرکاری حمایت کی بو آتی ہے۔

حریت کے کالم نویس، احمد ہاکان نے،جِن پر اکتوبر میں اُن کے گھر کے سامنے حملہ ہوچکا ہے، نکتی چینی کی ہے کہ پیرس کے حملوں کے مقابلے میں بیروت اور انقرہ کے حالیہ بم حملوں کے معاملے پر بین الاقوامی ردِ عمل مختصر تھا۔

اخبار ’وحدت‘ نے کُرد دہشت گردوں کو پناہ دینے پر فرانس پر تنقید کرتے ہوئے، فرانسیسی صدر پر نکتہ چینی کی ہے، جنھوں نے اتوار کو ترک کُرد پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اخبار کے پیر کے روز کے شمارے میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ’ہدف پر اسلام ہی ہے‘؛ اور مزید کہا ہے کہ ’گیارہ ستمبر اور حالیہ پیرس حملوں کا مقصد اسلام کی راہ پر چلنے والوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے‘۔

’اکیت‘ نامی اخباری ادارے نے فرانس کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ، ’اُنھوں نے آگ لگائی، سو اُنھیں آگ لگی‘۔

اخبار نے لکھا ہے کہ، ’یہ حملے فرانس کی جانب سے لیبیا پر کیے جانے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں سامنے آئے‘۔

اِسی طرح، نیوز ویب سائٹ ’مِلی گزیٹ‘ میں اِسی عنوان پر لکھا گیا ہے، جس کی ہیڈلائن: ’کیے کی سزا‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’جو بم آپ دوسروں پر گراتے ہیں وہ گھوم کر آپ کے گھر پر لگتے ہیں۔ فرانس نے جو بویا وہی کاٹا‘۔

مشرق وسطیٰ میں داعش کے خلاف کارروائی کا عکس

عربی اور مشرق وسطیٰ کے ابلاغ عامہ کے کچھ حلقوں میں تجزیہ کاروں نے تحریر کیا ہے کہ پیرس کے حملے دراصل عراق اور شام میں داعش کے افکار کا عکس ہے۔

ایرانی اخبار ’کیہان‘ نے لکھا ہے کہ فرانس نے ’وہی مزہ چکھا جو وہ گذشتہ پانچ برسوں سے شام کے ساتھ کرتا آیا ہے‘۔

شام کے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو پیرس کے حملوں پر تشویش ہوئی اور فکرمند تھے، ایسے میں جب روس اور دیگر مغربی اتحادی داعش کے خلاف حملوں میں تیزی لائے ہیں، شام کے صدر بشار الاسد اقتدار میں رہیں گے۔

شام میں حقوق انسانی کے سرگرم کارکن، زید الطائی نے کہ ’مصر العربیہ‘ ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ اپنے عزائم کو فروغ دینے اور شام میں اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے، اسد پیرس حملوں کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

کُرد علاقوں میں، چمہ گوئیاں جاری تھیں آیا پیرس کے حملوں کے نتیجے میں عراق اور شام میں داعش کے مضبوط ٹھکانوں پر حملوں میں تیزی لائی جائے گی۔ تاہم، کچھ میڈیا بیانات میں یہ بات کی گئی ہے کہ فرانس نے اس المیئے کو خود ہی دعوت دی۔

کُرد تجزیہ کار، عرض قادر نے غیر جانبدار ویب سائٹ ’پاسبان‘ میں لکھا ہے کہ اِن حملوں میں قصوروار خود فرانس ہے، کیونکہ ، بقول اُن کے، وہ ایک خوشامدی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، جس کا مقصد دیگر اقلیتوں کو فرانس کے اکثریتی ثقافت میں ضم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

مصنف فرانس کی جانب سے اقلیتوں کے ساتھ روا رکھی گئی پالیسیوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ برطانیہ اور کینیڈا قلیتوں کے ساتھ تعلقات کے بہتر ماحول کی مثال پیش کرتے ہیں۔

پاکستانی میڈیا: مشرق وسطیٰ میں مغربی پالیسیاں ذمہ دار

پاکستان میں، مقامی اخباری اداریوں میں پیرس کے حملوں کا ذمہ دار مغرب کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ساتھ روا رکھی گئی پالیسیوں کو قرار دیا گیا ہے۔

ملک کے ایک سرکردہ اخبار، ’نوائے وقت‘ نے اپنے اداریے میں پیرس حملوں کی مذمت کی ہے۔ تاہم، اخبار نے اِسے عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلتوں کا ’رد ِعمل‘ قرار دیا ہے۔ اداریے میں داعش کو اسلامی دنیا اور مغربی ملکوں کے لیے ایک ’مساوی خطرہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

اردو اخبار ’ایکسپریس‘ نے یورپ اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ داعش کے بارے میں مشترکہ پالیسی اپنائی جائے؛ اور سعودی عرب، پاکستان اور دیگر مسلمان ملکوں پر زور دیا ہے کہ مسلمان دہشت گردوں کے خلاف قائم اتحاد کا حصہ بنیں۔

اردو اخبار ’جنگ‘ نے بھی پیرس حملوں کا ذمہ دار مغرب کو قرار دیا ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ یہ عراق اور شام میں امریکی مداخلت کا ’ردِ عمل‘ ہے۔ ایک اداریے میں، اخبار کہتا ہے کہ 11/9کے بعد کی امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے، جن میں داعش جیسے انتہاپسند گروہ کو فروغ ملا ہے۔

دیگر اداریوں میں مغرب کی جانب سے پیریس حملے کے رد عمل میں اور جلدبازی سے کیے گئے اقدامات کے خلاف متنبہ کیا گیا ہے۔ اِن میں کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے حل میں کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کرے گا۔

افغان میڈیا کی جانب سے زیادہ تر خاموشی

افغانستان میں پیرس کے حملوں پر میڈیا میں کوئی خاص خبریں نہیں چھپیں یا پھر مختصر خبریں شائع ہوئی ہیں۔

دیگر اہم ٹیلی ویژن نیٹ ورکس، جن میں ’طلوع نیوز‘ اور ’آئی ٹی وی’ شامل ہیں، اپنی شام کی نشریات میں خبروں کے بعد کچھ تجزیات شامل کیے گئے ہیں، جب کہ سرکردہ اخبارات نے سرورق کے اوپری حصے پر خبریں شائع کیں۔

حکومت افغانستان نے مذمت اور تعزیت پر مبنی بیانات جاری کیے، جنھیں جلی حروف کے ساتھ چھاپا اور اہم خبروں کے طور پر نشر کیا گیا۔

کچھ نیٹ ورکس نے حملوں کے بارے میں یورپ میں موجود افغانوں سے اُن کے تجزیے معلوم کیے اور شائع کیے، آیا اِن سے یورپ میں اشتعال کے ماحول میں تیزی آئے گی، جس سے مہاجرین کا جینا مزید مشکل ہوجائے گا۔

سلام وطن دار کا تعلق ایک قومی ریڈیو نیٹ ورک سے ہے۔ اُنھوں نے پیرس حملوں کے بارے میں متعدد تجزیہ کاروں کا انٹرویو کیا، جس میں مغرب کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں پر اُن کی رائے معلوم کی۔

ایک تجزیہ کار نے ایک نیٹ ورک کو بتایا کہ، ’اِن حملوں کے نتیجے میں اسلام مخالف لوگوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے، جب کہ یہ یورپ میں مہاجرین کے خلاف انتباہ کا کام دیں گے‘۔

دیگر تجزیہ کاروں نے مزید سخت تنقید کی ہے۔

ایک اداریہ جس کا عنوان ’محض فضائی حملے دہشت گردی کو ختم نہیں کرسکتے‘ تھا، ’ایٹ اے ایم‘ نامی اخبار نے دلیل پیش کی ہے کہ اگر مغرب دہشت گردی کے انسداد میں واقعی دلچسپی رکھتا ہے تو وہ مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو قابو میں رکھے۔

XS
SM
MD
LG