رسائی کے لنکس

مبصرین کا کہنا ہے کہ اوباما کو داعش کے خلاف مہم کو تیز کرنا ہوگا اور جی 20 اجلاس انھیں یہ موقع فراہم کرے گا کہ وہ ان دیگر ملکوں کے رہنماؤں کے ساتھ اس ضمن میں بات چیت کر سکیں جو داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ترکی کے ساحلی شہر انطالیا میں دنیا کے بڑے 20 اقتصادی ملکوں "جی 20" کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں شرکت کے لیے امریکہ کے صدر براک اوباما بھی اتوار کو یہاں پہنچے ہیں۔

دو روزہ اجلاس میں شرکا تجارت، توانائی اور ماحولیات پر تبادلہ خیال کریں گے لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ جمعہ کو پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا معاملہ اجلاس کے ایجنڈے پر غالب رہے گا۔

اس ایجنڈے کے بنیادی نکات کے علاوہ شدت پسند گروپ داعش کے خلاف لڑائی کو منظم کرنے کی ضرورت کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔

جمعہ کو پیرس کے مختلف مقامات پر ہونے والے دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں 129 افراد ہلاک اور 350 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے تھے اور ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

ان حملوں سے چند گھنٹے پہلے امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے کہا تھا کہ جی 20 اجلاس اہم عالمی رہنماؤں کے لیے شام کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک "مفید موقع" ہو گا۔ لیکن انھوں نے یہ بھی متنبہ کیا تھا کہ اس میں کسی بڑی پیش رفت شاید نہ ہو سکے۔

اجلاس میں شرکت کے لیے روانگی سے قبل صدر اوباما نے قومی سلامتی کی اپنی ٹیم سے ملاقات کی اور صورتحال سے متعلق آگاہی حاصل کی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اوباما کو داعش کے خلاف مہم کو تیز کرنا ہوگا اور جی 20 اجلاس انھیں یہ موقع فراہم کرے گا کہ وہ ان دیگر ملکوں کے رہنماؤں کے ساتھ اس ضمن میں بات چیت کر سکیں جو داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

فرانس کے صدر فرانسواں اولاند جمعہ کو اپنے ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی وجہ سے اس اجلاس میں اپنی شرکت منسوخ کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG