رسائی کے لنکس

آئین میں اٹھارویں ترمیم دو تہائی سے زائد اکثریت سے منظور


آئین میں اٹھارویں ترمیم دو تہائی سے زائد اکثریت سے منظور

آئین میں اٹھارویں ترمیم دو تہائی سے زائد اکثریت سے منظور

جمعرات کے روز قومی اسمبلی میں اراکین نے دو تہائی اکثریت سے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بل کی شق وار منظوری دی اور اب 102 شقوں پر مشتمل اس بل کو پارلیمان کے ایوان بالا یا سینٹ میں منظور ی کے لیے بھیجا جائے گا۔ تمام شقوں کی منظور ی کے بعد حتمی رائے شماری کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی سپیکر فہمید ہ مرزا نے کہا کہ 342 ارکان میں سے 292 نے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بل کے حق میں ووٹ دیے ہیں اور کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔

اٹھارویں ترمیم میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں متعارف کروائی جانے والی سترہویں ترمیم کو غیر قانونی قرار دینے اور اسے منسوخ کرنے سے متعلق شق پر رائے شماری کے وقت ایوان میں موجود اراکین کی اکثریت نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ڈیسک بجانا شروع کردیے۔ اس ترمیم کے ذریعے پاکستان کے آئین سے سابق فوجی آمر ضیا الحق کا نام خارج کرنے کی شق پر جب رائے شماری کی گئی تو اس موقع پر اپوزیشن مسلم لیگ کے اراکین نے مشرف کو پھانسی دو کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختون خواہ رکھنے کی شق بھی اراکین نے دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی لیکن ہزارہ سے تعلق رکھنے والے اراکین نے احتجاجا ًاس موقع پر اجلا س کا بائیکاٹ کردیا جب کہ ُادھر ہزارہ کے مختلف اضلاع میں صوبے کا نام تبدیل کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے اپنی اپنی تقاریر میں ایوان زیریں سے اٹھارویں ترمیم کی متفقہ منظوری کو ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اتفاق رائے سے اراکین اسمبلی نے ثابت کیا ہے کہ پارلیمنٹ ایک خود مختار ہے۔

XS
SM
MD
LG