رسائی کے لنکس

پاناما معاملے کی تحقیقات کا طریقہ کار طے کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم

  • عشرت سلیم

قومی اسمبلی

قومی اسمبلی

یشنل اسمبلی سیکریٹیریئٹ سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکشن کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کو ہو گا جبکہ یہ دو ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ پارلیمان کو پیش کرے گی۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر نے پاناما دستاویزات کی تحقیقات کے ضابطہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

اس کمیٹی میں حکومت کے چھ جب کہ حزب اختلاف کے بھی چھ نمائندے شامل ہیں۔

حکومت میں شامل جماعتوں کے چھ ارکان میں وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر برائے ریلوے سعد رفیق، وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ میر حاصل خان بزنجو، وزیر برائے آئی ٹی انوشہ رحمٰن اور وزیر برائے ہاؤسنگ و تعمیرات اکرم خان درانی شامل ہیں۔

حزب اختلاف کی چھ رکنی ٹیم میں متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن، پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی، جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ، عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر الیاس احمد بلور اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رکن قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ شامل ہیں۔

نیشنل اسمبلی سیکریٹیریئٹ سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکشن کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کو ہو گا جبکہ یہ دو ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ پارلیمان کو پیش کرے گی۔

اس کمیٹی کی تجویز وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ ہفتے پیر کو قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں دی تھی۔

نوٹیفیکشن میں کہا گیا کہ ’’پارلیمانی کمیٹی پاناما دستاویزات اور ذرائع ابلاغ میں اولاً آف شور کمپنیوں دوم بدعنوانی، کمیشن یا کک بیکس سے حاصل ہونے والی رقوم کی پاکستان سے منتقلی اور سوم بینکوں سے قرضوں کی معافی کے اہم معاملات کی تحقیقات کی تجاویز پر غور کرنے کے بعد اپنی ترجیحات اور مناسب ترین فورم کے بارے سفارشات پیش کرے گی۔‘‘

اس کے علاوہ کمیٹی تحقیقاتی فورم کا ضابطہ کار طے کرے گی اور رپورٹ پیش کرنے کے لیے تاریخوں کا تعین کرے گی۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی کے کسی بھی رکن کو متعلقہ پارٹی کی درخواست پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پاناما دستاویزات میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے تین بچے حسن، حسین اور مریم آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جس کے بعد ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ان کمپنیوں کو ملک سے پیسہ باہر لے جانے اور ٹیکسوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا۔

وزیراعظم نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ان کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا اور بعد ازاں حزب اختلاف کے اصرار پر پاکستان کے چیف جسٹس کو کمیشن تشکیل دینے کے لیے ایک خط لکھا تھا۔

تاہم چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاناما لیکس پر تحقیقات کے لیے حکومت کی طرف سے تجویز کردہ ضابطہ کار کے تحت عدالتی کمیشن تشکیل دینے سے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمیشن کی تشکیل سے قبل ان افراد، خاندانوں اور کمپنیوں کے نام اور کوائف فراہم کیے جائیں جن کے خلاف تحقیقات کی جانی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جمیعت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے منگل کو ملاقات کی اور ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

دریں اثنا، پاکستان کے الیکشن کمیشن نے وزیراعظم نواز شریف کے داماد ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر کو طلب کیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ مریم نواز کے اثاثے چھپانے کے الزام کی وضاحت کریں۔

2013 میں این اے 21 مانسہرہ سے ہارنے والے پاکستان تحریک انصاف کے امیداور نوابزادہ صلاح الدین سعید نے الیکشن کمیشن میں ایک درخواست جمع کرائی تھی جس میں انہوں نے کیپٹن صفدر کو اپنی اہلیہ کے اثاثے چھپانے کے الزام میں نااہل قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

پاناما دستاویزات کے مطابق مریم نواز برٹش ورجن آئی لینڈز میں نیلسن انٹرپرائزز اور نیسکول لمیٹڈ کی مالک ہیں جنہیں بالترتیب 1994 اور 1993 میں قائم کیا گیا۔

تاہم وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کمپنیاں اُن کی ہیں اور ان کی بہن مریم صرف اُن کے اثاثوں کی نگران ہیں۔

XS
SM
MD
LG