رسائی کے لنکس

لیکن، لوگوں نے نہ صرف اُس کومل صورت کو یاد رکھا ہے، بلکہ انکے دھیمے لہجے، انکے پروقار انداز اور دل میں اتر جانے والے شعروں کو بھلایا نہیں ہے۔ اور ان کے کہے لفظ، آج بھی، انکے ہونے کی گواہی دے رہے ہیں

چوبیس نومبر آیا اور گزر گیا۔ یہ پروین شاکر کی سالگرہ کا دن تھا جو انکی یادوں کو فضا میں بکھیرتا چلا گیا۔ کچھ ٹی وی چینلز نے انہیں بڑی محبت سے یاد کیا۔ انکی غزلیں چلائیں،انکے انٹرویوز اور تصاویر دکھائیں اور انکے پرستاروں کو آبدیدہ کر دیا۔

حالانکہ شاعرہ کا اپنا خیال تھا:

’مر بھی جاؤں تو کہاں، لوگ بھلا ہی دیں گے

لفظ میرے، میرے ہونے کی گواہی دیں گے‘

لیکن، لوگوں نے نہ صرف اُس کومل صورت کو یاد رکھا ہے، بلکہ انکے دھیمے لہجے، انکے پروقار انداز اور دل میں اتر جانے والے شعروں کو بھلایا نہیں ہے۔ اور ان کے کہے لفظ، آج بھی، انکے ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔

پروین شاکر سے میرا پہلا تعارف، ستّر کی دہائی کے اوائل میں ہوا۔

میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں اس وقت اناؤنسر تھا، کمرشل سروس میں،جس میں مقبول نغموں کے ساتھ تجارتی اشتہار بھی نشر کئے جاتے تھے۔ دو گھنٹے کی اس سروس میں ہم نے ان نغموں کو جوڑنے کےلئے، مختلف پروگرام اور عنوان رکھے ہوئے تھے۔

مثلاً، پروگرام، ’مجھے یاد آیا‘، جس میں سامعین کی ایسی یادوں کو نشر کیا جاتا تھا جو کسی نغمے کے ساتھ وابستہ ہوتی تھیں۔ یہ بہت ہی مقبول سلسلہ تھا اور شاید اسی لئے، میں نے اپنے اس بلاگ کا عنوان بھی یہی رکھا، ’مجھے یاد آیا‘۔

کسی ایک لفظ یا موضوع پر پروگرام کرنے کا خیال آیا تو کوئی اچھا سا ٹائٹل سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اس گتھی کو سلجھانے کی لئے، میں اپنے ایک ماموں کے گھر چلا گیا، جو بہت عمدہ شاعر اور با علم شخصیت تھے، مصطفیٰ راہی مرحوم۔ وہ مجھے اتنے پسند تھے کہ بعد میں انکی سب سے چھوٹی بیٹی ُمنزّہ کو، جو خود بھی شعر و ادب کی دلدادہ تھیں، اپنی شریک حیات بنا کر، راہی صاحب کو اپنا سسر یا والدِقانونی بنا لیا۔

ان سے جب مسئلہ پوچھا تو حسبِ عادت انہوں نےسگریٹ سلگایا اور ٹہلنا شروع کر دیا۔ لگتا تھا کہ کوئی آمد ہونے والی ہے اور کچھ دیر میں شعر وارد ہوگا۔ لیکن، تھوڑی دیر بعد، انکے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور کہنے لگے، میر انیس کا ایک مصرع ہے۔ اصل میں وہ جگر صاحب کے عاشقوں میں سے تھے۔ ان پر کئی کتابیں بھی لکھی تھیں۔ اور انکی سوچ جگر مرادآبادی سے شروع ہوتی تھی اور انہی پر ہی ختم ہو جاتی تھی۔ لہٰذا، خیال تھا کہ ان کا ہی شعر ہوگا۔ لیکن، مصرع وارد ہوا تو وہ ایک اور بلند پایہ شاعر کا تھا اور وہ اتنا مناسب اور اتنا جاندار تھا کہ انکار کی گنجائش ہی نہ تھی۔

’اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں‘

اور جب میں نے اس عمدہ انتخاب پر داد دی، تو پھر بڑے ترنگ میں انہوں نے پورا شعر پڑھا:

’گلدستہٴ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں

اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں‘

لہٰذہ، اس عنوان کےلئے موسیقی کا انتخاب کیا گیا اور میں نے ٹائٹل اپنی آواز میں ریکارڈ کرکے، یہ پروگرام شروع کر دیا، جو سامعین نے بہت پسند کیا۔

انکے علاوہ بھی کئی اور مقبول سلسلے تھے اور جن میں سے ایک تھا ’ایک شعر ایک نغمہ‘۔

ہر نغمے سے پہلے ہم لوگوں کے بھیجے ہوئے خوبصورت اشعار پڑھتے اور پھر کسی ایک شعر پر موزوں گیت یا غزل سنواتے تھے۔

ہر ہفتے سینکڑوں خطوط ان پروگراموں کے حوالے سے آتے تھے۔ ہم اپنی فلم ریکارڈز کی لائبریری میں بیٹھ کر خط منتخب کرتے اور سکرپٹ تحریر کرتے۔ جاوید محبوب لائبریرین تھے۔ جو شعر و ادب کا ذوق رکھنے والے بہت پرخلوص اور محبت والے انسان تھے، اور وہ ان پروگراموں کی تیاری میں مدد بھی کرتے تھے۔

جلد ہی ان سے یہ دفتری تعلق ایک پائیدار دوستی میں بدل گیا جو ان کی وفات تک قائم رہا۔

مجھے یاد ہے کہ وہ میری شادی میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر کراچی سے آئے اور اپنے والد کا لکھا ہوا ایک خوبصورت سہرا بھی لائے۔

مرحوم جو بھی خوبصورت شعر یا کتاب پڑھتے دوسرے دن صبح آ کر پہلے مجھے سناتے۔ ان میں سے اکثر کو، میں اپنے پروگرام میں شامل کر لیتا۔

ایک دن وہ بڑے خوش خوش آئے اور حسبِ عادت اشعار سنانے شروع کئے۔ اتنی اچھوتی اور عمدہ شاعری سن کر میں نے فوراً ان کے ہاتھ سے کتاب اُچک لی اور ریڈیو کے خوبصورت سبزہ زار میں بیٹھ کر اس سے لطف اٹھانے لگا۔ میں شعر پڑھتا اور جاوید کہتے ’واہ واہ۔ یار، کیا غضب کی شاعرہ ہے۔ اتنی کم عمری میں کتنی پختہ شاعری‘۔ غرض ہم دونوں ہر ہر شعر پر سر دُھنتے رہے اور اسے اپنے پروگراموں میں شامل کرنے کے منصوبے بناتے رہے۔

یہ پروین شاکر سے ہمارا پہلا تعارف تھا اور کتاب تھی’خوشبو‘

اور پھر یوں ہوا کہ’خوشبو‘ مقبولیت کے ریکارڈ توڑنے لگی۔ پروین شاکر کے اشعار اور مصرعے زبان زدِ عام ہونے لگے۔ جیسے کہ یہ مصرع:

’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘

اور پھر، وہ شعر کہ ’وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا۔ مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائیگا‘۔

ملک کے معروف گلوکاروں نے انکی غزلیں گائیں اور انکی یہ غزل تو اسوقت امر ہوگئی جب عظیم گلوکار مہدی حسن نے اسے اپنی آواز کا روپ دیا: ’کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی۔۔۔اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی‘

یہ بھی بڑا دلچسپ واقعہ ہے۔ خان صاحب پی ٹی وی کی ایک محفلِ موسیقی میں شریک تھے۔ جب پروڈیوسر نے یہ غزل پڑھنے کو دی۔

خان صاحب، ادب شناس اور شعر شناس شخصیت تھے۔ اس شاعری سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے چند منٹ کے اندر اس کی دھن ترتیب دے دی اور پھر راگ درباری میں اسی وقت حاضرین کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔

شاعری، آواز، موسیقی اور ایک بلند پایہ فنکار کی ادائیگی، غزل راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی۔

پروین شاکر، ریڈیو اور ٹی وی کے تقریباً ہر بڑے مشاعرے کی پسندیدہ شاعرہ ہوتی تھیں۔ اور یوں ان سے ملاقات ہونے لگی۔ لیکن، تفصیلی ملاقات ٹی وی کے ایک پروگرام ’آج کے مہمان‘میں ہوئی۔ جسکے پروڈیویسر جمشید فرشوری تھے اور میزبان ایک نوجوان کومپئیر، عادل نجم تھے۔

یہ میری انتہائی خوش قسمتی تھی کہ پروین شاکر اور ہاکی کے تاریخ ساز کپتان اصلاح الدین کے ساتھ تیسرا مہمان میں تھا۔ بڑی یادگار نشست تھی اور عادل نجم نے بڑے خوبصورت انداز میں ہمارے تعارف کو جوڑا۔

وہ کہنے لگے: پروین، خبریں پڑھنے میں خالد کا انداز اور لہجہ بہت دھیما ہوتا ہے اور آپکی شاعری بھی بہت نرم اور دھیمے انداز کی ہوتی ہے۔ شاید یہ مماثلت ہی آپ دونوں کو آج کا مہمان بنانے کا سبب بنی۔

جواب میں پروین صاحبہ نے میر تعریف میں بڑے اچھے الفاظ اد کئے جو میرے لئے ایک بڑا اعزاز تھا۔

لیکن، میرے لئے سب سے بڑا اعزاز وہ تھا جب مجھے اور پروین شاکر صاحبہ کو ایک ہی تقریب میں ایک ہی وقت میں ’تمغہٴحسنِ کارکردگی‘ عطا کیا گیا۔

مرحوم صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں یہ تمغے ہمیں پہنائے گئے۔ لیکن، یہ بھی عجب حسنِ اتفاق تھا کہ میری چند اور پسندیدہ شخصیتوں کو بھی اسی سال یہ اعزاز ملا۔ ان میں، فلمسٹار نذیر بیگ، المعروف ندیم، شہرہ آفاق شاعر جناب افتخار عارف، ہاکی کے مشہور کھلاڑی شہناز شیخ، اور ممتاز لوک گلوکار شوکت علی شامل تھے۔

اور جب ان عظیم لوگوں کے ساتھ میں ایک گروپ فوٹو میں شریک ہوا تو یہ لمحہ میرے لئے ایک خواب کی مانند تھا۔ کیمرے کی آنکھ نے آج بھی اس منظر کو زندہ رکھا ہے۔ میرے ذہن میں سب سے ملاقات تازہ ہے۔ خدا سب کو سلامت رکھے۔ بس ایک پروین شاکر تھیں جو خوشبو کی طرح فضاؤں میں بکھر گئیں۔۔ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔

اور 24 دسمبر کو، ان سے بچھڑے پورے 20 سال ہوگئے۔

اور جب ایک بار میں اسلام آباد کے قبرستان میں سفید سنگِ مرمر سے بنی ان کی خوبصورت قبر کے سرہانے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے کھڑا تھا، تو نہ جانے کیوں انکے وہ اشعار باربار یاد آنے لگے جو انہوں نے دبئی کے ایک مشاعرے میں پڑھے تھے۔

وقت سے کوئی شکایت ہے، نہ افلاک سے ہے،

یہی کیا کم ہےکہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے؛

بزمِ انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے،

اور میری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG