رسائی کے لنکس

ڈرون حملے بند کیے جائیں: پرویز خٹک

  • شہناز نفيس

’ہم آزاد اور خود مختار ملک ہیں اور ہمارے اقتدار ِاعلیٰ اور ہماری آزادی کا احترام کیا جانا چاہیئے‘

پاکستان کے صوبہٴخیبر پختونخواہ کے نئے وزیر اعلیٰ، پرویز خٹک نے اپنی پارٹی کے اِس مؤقف کا پُر زور الفاظ میں اعادہ کیا ہے کہ ڈرون حملے بند کیے جائیں۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ، ’ہم آزاد اور خودمختار ملک ہیں اور ہمارے اقتدار ِاعلیٰ اور ہماری آزادی کا احترام کیا جانا چاہیئے‘۔

پرویز خٹک نے اِس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ، بقول اُن کے، ’ہماری خود مختاری کو چھینا جا رہا ہے‘۔

آگے چل کر مسٹر خٹک نے کہا کہ، ’وفاقی سطح پر ہماری حکومت نہیں۔ لیکن، ہم مرکز میں حکومت پر زور دیں گے کہ اِس بارے میں واضح پالیسی کا اعلان کرے اور مسئلے کو کرنے کے لیے اقدامات کرے‘۔

اِس سوال کے جواب میں کہ اُن کی پارٹی کے مؤقف کے مطابق ڈرون کو گرانے کے بعد پاکستان ممکنہ نتائج کے لیے کہاں تک تیار ہوگا، اُن کا جواب تھا: ’اگر ملک کی خودمختاری پر حملہ ہو، تو پھر کوئی نتائج کا نہیں سوچتا‘۔

تاہم، پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ،’ہم چاہیں گے کہ امریکہ اور دوسرے ہمارے ساتھ بیٹھیں اور مل کر حکمتِ عملی ترتیب دیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ،’ہم ڈرون حملوں پر احتجاج جاری رکھیں گے اور یہ ہماری ترجیحات میں ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستانی طالبان نے مجوزہ مذاکرات کی پیش کش واپس لے لی ہے، مسٹر خٹک نے اِس جانب توجہ دلائی کہ علاقے میں جرگے کا بھی ایک نظام موجود ہے اور ہمیں چاہیئے کہ ہم برابر اپنی کوششیں جاری رکھیں اور مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کریں۔

خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ، ’پندرہ بیس سال سے لڑائی ہو رہی ہے اور نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں۔ ہمیں بہت نقصان ہوا ہے اور ملک تباہ ہو رہا ہے‘۔

یہ بات قابلِٕ ذکر ہے کہ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک ِانصاف کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ اُس نے ملک میں اپنی حکومت تشکیل دی ہے اور صوبہٴخیبر پختونخواہ کے منظر نامے، طالبان کی پُرتشدد کارروائیوں اور الیکشن سے پہلے تحریک ِانصاف کے امریکہ مخالف بیانات نے سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگاروں کی توجہ اس حکومت اور اس کی آئندہ کے لائحہ عمل پر مرکوز ہے۔

یاد رہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے مضبوط گڑہ ہیں اور وہ علاقے اُن کی سرگرمیوں کا مرکز سمجھے جاتے ہیں۔

پرویز خٹک نے اپنے انٹرویو میں امن و امان کے مسئلے سمیت تعلیم، معیشت اور خواتین کے مسئلے پر بھی اظہارِخیال کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ،’پُرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے معاشی، تعلیمی اور سماجی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور یہ ایک بڑا چیلنج ہے‘۔

اُنھوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ پہلی ترجیح امن و امان کا قیام ہوگا۔

تعلیم کے شعبے میں اصلاح پر زور دیتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ہم یکساں تعلیمی نظام رائج کریں گے اور ایک ہی زبان میں تعلیم دی جائے گی۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG