رسائی کے لنکس

46 سالہ شربت گلہ کو بدھ کے روز پشاور میں ان کے گھر سے دھوکہ دہی سے پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کے الزام میں اپنے دو بیٹوں سمیت  حراست میں لیا گیا تھا۔

سبز آنکھوں والی ایک افغان خاتون کی پولیس کی حراست سے جلد رہائی کے لیے سفارتی اور قانونی کوششیں کی جارہی ہیں جس کی ایک نوجوان پناہ گزین لڑکی کے طور پر 1985 میں جریدے نیشنل جیوگراف کے سرورق پر شائع ہونے والی تصویر نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی تھی اور بعض حلقوں کی جانب سے اسے افغان مونا لیزا کا نام دیا گیا تھا۔

46 سالہ شربت گلہ کو بدھ کے روز پشاور میں ان کے گھر سے دھوکہ دہی سے پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کے الزام میں اپنے دو بیٹوں سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

جمعے کے روز پاکستانی پر اسیکیوٹرز نے بتایا کہ شربت گلہ کو پہلی بار پشاور کی ایک عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جہاں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ لیکن عدالت نے ا مزید تفتیش کے لیے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔

غیر قانونی شناختی کارڈ کے ساتھ پکڑے جانے والے افراد پر جرم ثابت ہونے پر 14 سال تک قید کی سزا اور پانچ ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں افغان سفیر حضرت عمر زاخیل وال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کی قانونی ٹیم متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ہمیں یکم نومبر کو عدالت میں دوبارہ پیشی پر شربت گلہ کی رہائی کی توقع ہے۔

شربت گلہ کی گرفتاری پر پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے آواز بلند کی جب کہ أفغان حکام نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پکڑ دھکڑ کی اس مہم کا مقصد أفغان پناہ گزینوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔

پاکستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی شناختی کارڈوں کے خلاف مہم نے انہیں شربت گلہ تک پہنچنے میں مدد دی اور ان اہل کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے جنہوں نے اس غیر قانونی کام میں ان کی مدد کی۔

أفغان سفیر نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے خارجہ أمور کے مشیر سرتاج عزیز کو أفغان حکومت کے تحفظات سے آگاہ کیا اور انہوں نے شربت گلہ کی جلد رہائی کا یقین دلایا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG