رسائی کے لنکس

بات چیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، رحیق عباسی نے بتایا کہ، عوامی تحریک ’بامعنی مذاکرات‘ پر یقین رکھتی ہے

اسلام آباد کے ریڈ زون میں دھرنے پر بیٹھے پاکستان عوامی تحریک کے رہنماوٴں اور حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی چار رکنی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا، جس میں عوامی تحریک نے اپنے مطالبات پیش کئے۔

حکومتی کمیٹی میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ، متحدہ قومی موومنٹ کے حیدرعباس رضوی اورپاکستان مسلم لیگ ضیاء کے رہنما اعجاز الحق شامل تھے؛ جبکہ عوامی تحریک کی تشکیل کردہ کمیٹی میں رحیق عباسی، سردار آصف، دینی رہنما حامد رضا اور غلام مصطفی کھر شامل تھے۔

پہلے دور کی بات چیت کے بعد پی اے ٹی کے رہنما رحیق عباسی نے میڈیا سے بات چیت میں مذاکرات کے دوران پیش کئے گئے مطالبات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق، پہلے مطالبے کی صورت میں وزیراعظم نواز شریف اور صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے استعفیٰ مانگا گیا۔

سانحہ ماڈل ٹاوٴن کے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری اور ان کے خلاف قتل کے مقدمے کے اندراج سے متعلق دوسرا مطالبہ پیش کیا گیا، جبکہ مرکز اور پنجاب حکومت کے فوری خاتمے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

بقول رحیق عباسی، نواز شریف اور شہباز شریف کی موجودگی میں سانحہ ماڈل ٹاوٴن میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو انصاف ملنا ممکن نظر نہیں آتا، اس لئے ان کا مستعفی ہونا ضروری ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوامی تحریک ’بامعنی مذاکرات‘ پر یقین رکھتی ہے۔

ابتداٴ میں حکومتی کمیٹی میں وزیر ریلوے خواجہ رفیق شامل تھے۔ تاہم، عوامی تحریک نے ان کی شمولیت پر اعتراض کیا تو ان کی جگہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو کمیٹی میں شامل کرلیا گیا۔

XS
SM
MD
LG