رسائی کے لنکس

پیٹرئیس اپنے وقت کے مشہور جنرل رہے ہیں؛ اور ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ وہ صدارت یا نائب صدارت کے ممکنہ امیدوار ہیں۔۔ بتایا جاتا ہے کہ، یہ دستاویز ریاستِ نارتھ کیرولینا کی ایک وفاقی عدالت میں دائر کیے گئے ہیں

سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق سربراہ اور فوج کے ریٹائرڈ فور اسٹار جنرل، ڈیوڈ پیٹرئیس نے ’کلاسیفائیڈ انفرمیشن‘ کے غلط استعمال کے الزام کے معاملے میں اقبال جرم پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔


یہ دستاویز ریاستِ نارتھ کیرولینا کی ایک وفاقی عدالت میں دائر کیے گئے ہیں۔

پیٹرئیس پر الزام تھا کہ بحیثیت سی آئی اے ڈائریکٹر، اُنھوں نے ’کلاسیفائیڈ‘ مواد اپنی (مسٹریس) گھر والی کو دیا۔

پیٹرئیس اپنے وقت کے مشہور جنرل رہے ہیں؛ اور ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ وہ صدارت یا نائب صدارت کے ممکنہ امیدوار ہیں۔

اُنھوں نے عراق اور افغانستان میں امریکی مشن کی سربراہی کی اور انسداد دہشت گردی کی ایک حکمت عملی تیار کی، جسے مستقبل کی جنگ و جدل کے لیے ایک ماڈل کی درجہ دیا جاتا تھا۔

اُن کی ’مسٹریس‘ بَری فوج کی ایک سابقہ ’رِزرو افسر‘ تھیں، جن کا 2011ء میں پیٹرئیس سے معاشقہ تھا، جب وہ تحقیق کا کام انجام دے رہی تھیں اور اُن کی سوانح حیات تحریر کر نے پر مامور تھیں۔

اقبال جرم کے عمل سے کھلی عدالت میں مقدمہ نہیں چلے گا، جس کے باعث اس معاشقے کی پریشان کُن تفصیل کے انکشافات سے بچا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG