رسائی کے لنکس

پال دی آکٹوپس ورلڈ کپ کے بعد

  • جمیل اختر

ورلڈ کپ کے ساتھ ہی بظاہر پال آکٹوپس کا مستقبل بھی ختم ہوگیا ہے کیونکہ جرمنی کے اس ماہی خانے کی انتظامیہ نے، جہاں ایک ایکویریم میں پال دی آکٹوپس رہتاہے، اس کی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ پال پیش گوئیاں نہیں کرے گا ، اور اب وہ صرف ماہی خانے میں آنے والے سیاحوں اور خاص طور پر بچوں کو بہلانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گا۔

پال دی آکٹوپس کی شہرت کا سفر 2008 ء کے فٹ بال کے یورو کپ کی پیش گوئیوں کے ساتھ شروع ہوا تھا۔یورو کپ میں اس کی پیش گوئیاں 80 فی صد درست ثابت ہوئیں۔

ورلڈ کپ میں شروع میں پال نے صرف ان میچوں کی پیش گوئیاں کیں جن میں جرمنی کی ٹیم شریک تھی۔ جیسے جیسے اس کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی گئیں، پال کی شہرت جرمنی سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلتی گئی ۔سیمی فائنل میں جرمنی کے مقابلے میں اسپین کے حق میں پیش گوئی کرنے پر پال کو اپنے جرمن پرستاروں کی جانب سے شدید ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔

سیمی فائنل کے بعد تیسری پوزیشن کے لیے پیش گوئی درست نکلنے پر آکٹوپس پال کو، فٹ بال کی دنیا کی اہم ترین شخصیت کا مقام حاصل ہوگیا۔ اور دنیا کے ٹی وی چینلز، میڈیا اور کھلاڑی اور کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والے صرف ایک ہی موضوع پر گفتگو کرنے لگے، پال دی آکٹوپس پر۔

اور فائنل میں اسپین کی جیت کے بعدپال آکٹوپس نے دنیا بھر میں ایک ایسے نجومی کا مقام حاصل کرلیا ہےجس کی پیش گوئیوں کی درستگی کا ریکارڈ سوفی صد ہے۔جو بذات خود ایک عالمی ریکارڈ ہے۔

نیدر لینڈزکے خلاف فائنل مقابلے میں اسپین نے اپنا پہلا اور آخری گول، اضافی وقت کے ختم ہونے سے صرف چار منٹ پہلے کیا۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی جیت میں آکٹوپس کا بڑا ہاتھ ہے۔ نیدر لینڈز کے کھلاڑیوں نےفائنل میں جس طرح کا کھیل پیش کیا ، اس سے یہ لگتاتھا کہ وہ مسلسل پال کے دباؤ میں رہے اورانہیں میدان میں بغیر جوڑ والی مصنوعی چمڑے کی فٹ بال جیولانی کی بجائےآکٹوپس کی آٹھ ٹانگیں حرکت کرتی ہوئی دکھائی دیتی رہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ریکارڈ تعداد میں فاؤل کیے اور گول کرنے کے شاندار مواقع گنوائے۔

اگرچہ ورلڈ کپ کا میدان اسپین نے مار لیا ہے مگر اس کا ریکارڈ بھی بڑا حیرت انگیز ہے۔ مثلاً وہ عالمی چیمپئن کی حیثیت سے سب سے کم گول کرنے والا ملک ہے۔اس کا ایک اور ریکارڈ یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے سارے گول مقابلوں کے آخری حصوں میں کیے،یعنی میچ کے 60 ویں منٹ سے لے کر116 منٹ کے دوران۔

کھیل کے بعد اسٹڈیم میں اسپن کے حامی پال آکٹوپس کے حق میں نعرے لگاتے رہے جب کہ ڈچ شائقین آکٹوپس کو کوئلوں پر بھون کر کھانے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ یہ مناظر صرف جنوبی افریقہ میں ہی نہیں، بلکہ اسپین اور نیدر لینڈز سمیت دنیا کے ان کئی ملکوں میں دیکھنے میں آئے جو ورلڈ کپ میں گہری دلچسی لے رہے تھے۔

ریٹائرمنٹ کا اعلان شاید اس خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ کہیں لوگ آکٹوپس سے فٹ بال کے علاوہ دوسرے شعبوں کے بارے میں بھی پیش گوئیوں کی فرمائشیں نہ کرنے لگیں اور غیب کے پردے اٹھنے سے نئی طرح کے مسائل نہ کھڑے ہوجائیں ۔

عالمی کساد بازاری کے ڈسے ہوئے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ پال آکٹوپس کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ایک نامناسب فیصلہ ہے کیونکہ اس کی مدد سے فٹ بال کے بین الاقوامی اور عالمی مقابلوں میں اربوں ڈالر کے اخراجات بچائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً 2010 ء کے ورلڈ کپ کے انتظامات پر چارارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے۔ تین لاکھ سے زیادہ افراد مقابلے دیکھنے کے لیے جنوبی افریقہ گئے۔دنیا بھر میں کروڑوں افراد نے ایک مہینے تک یہ میچ ٹیلی ویژن پر دیکھے۔ کروڑوں ڈالر پبلسٹی پر اٹھے۔ اگر یہ سب میچ کروانے کی بجائے ہارجیت کے فیصلے پال دی آکٹوپس سے کروا کرفاتح ٹیم کو کپ تھما دیا جاتا تواربوں ڈالر اور قیمتی وقت بچایا جاسکتاتھا۔ اور پھر پال کی سوفی صد درست پیش گوئیوں کے ریکارڈ کے پیش نظر کوئی ٹیم ناانصافی کی شکایت بھی نہیں کرسکتی تھی۔

مگر لگتا یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے اعلان کے باوجود پال دی آکٹوپس کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ، کیونکہ اسپین کی بزنس کمیونٹی نے جرمنی کے ماہی خانے کے مالک کو پیش کش کی ہے کہ وہ پال آکٹوپس کو 38 ہزار یورو میں خریدنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پال کو بہت آرام اور عزت و احترام سے رکھیں گے ، کیونکہ اب وہ ان کا ہیرو ہے۔

XS
SM
MD
LG