رسائی کے لنکس

”کسی کھلاڑی کے خلاف سٹے بازی کی تحقیقات نہیں کی جارہیں“

  • ن ہ

”کسی کھلاڑی کے خلاف سٹے بازی کی تحقیقات نہیں کی جارہیں“

”کسی کھلاڑی کے خلاف سٹے بازی کی تحقیقات نہیں کی جارہیں“

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کہا ہے کہ موجودہ قومی ٹیم کے کسی کھلاڑی کے خلاف سٹے بازی کے الزامات کی تحقیقات نہیں کی جارہی ہیں اور اس حوالے سے بین لاقوامی کرکٹ کونسل یا آئی سی سی نے پی سی بی کے ساتھ معلومات کا کوئی تبادلہ بھی نہیں کیا ہے۔

کرکٹ بورڈ نے یہ وضاحت منگل کے روزمیڈیا کو جاری کیے گئے ایک مختصر سرکاری بیان میں کی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ جمعہ کو پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں خود اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ عالمی تنظیم آئی سی سی کے صدر نے انھیں میچ فکسنگ میں ملوث دو پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف ”ٹھوس ثبوت“ فراہم کیے ہیں۔تاہم انھوں نے دونو ں کھلاڑیوں کے نام بتانے سے گریز کیا تھا۔

ہفتے کے روز پی سی بی کے انتہائی باوثوق ذرائع نے وائس آف امریکہ کو نام نہ بتانے کی شرط پربتایا تھا کہ جن دو کھلاڑیوں کے نام آئی سی سی نے پاکستان کوفراہم کیے ہیں وہ قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر کامران اکمل اور آل راؤنڈر رانا نوید الحسن ہیں۔ ذرائع کے مطابق ا ن ہی وجوہات کی بنا پر دونوں کھلاڑیوں کو دبئی میں انگلینڈ کے خلاف کھیلی گئی ٹونٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز میں شامل نہیں کیا گیا۔

مزید برآں ذرائع کا کہنا تھا کہ اپریل میں ویسٹ انڈیز میں کھیلے جانے والے ٹونٹی ٹونٹی عالمی کرکٹ کپ کے لیے اعلان کردہ 30 کھلاڑیوں میں کامران اکمل اور رانا نوید شامل ہیں لیکن حتمی 15 کھلاڑیوں کی فہرست میں ان دونوں کے نام نہیں ہوں گے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی سی بی نے منگل کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں نہ تو چیئرمین اعجاز بٹ کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ آئی سی سی کی طرف سے دو کھلاڑیوں کے خلاف سٹے بازی کے شواہد پاکستان کو دیے گئے ہیں اور نہ ہی اس بات سے انکار کیا ہے کہ کامران اکمل اور رانا نوید ہی وہ دو کھلاڑی ہیں جن کے خلاف سٹے بازی کے شواہد مہیا کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ کامران اکمل اور رانا نوید الحسن نے گذشتہ چند دنوں میں متعدد بار اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ سٹے بازی میں ملوث رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG