رسائی کے لنکس

جنوبی سوڈان کے فریقین میں امن معاہدہ


صدر سلوا کیر اور باغی کمانڈر ریک مشار

صدر سلوا کیر اور باغی کمانڈر ریک مشار

دسمبر 2013ء میں شروع ہونے والے تنازع کے باعث اب تک دس ہزار افراد ہلاک ہوئے جب کہ 15 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر اور باغی کمانڈر ریک مشار نے تقریباً ایک سال سے جاری داخلی تنازع کے خاتمے کے لیے ایک امن ماہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں پیر کو ہونے والے مذاکرات مشرقی افریقہ کے ایک نمائندہ گروپ کے زیر انتظام ہوئے جس کے نتیجے میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔

فریقین نے معاہدے کی جزیات کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی لیکن ان کے بقول 20 فروری سے شروع ہونے والے مذاکرات میں دوبارہ شریک ہوں گے جس میں تفصیلات طے کی جائیں گی۔

صدر اور باغی کمانڈر کے درمیان اس سے قبل ہونے والے تین معاہدے جلد ہی اختلافات کے باعث ختم ہو چکے ہیں۔

دسمبر 2013ء میں شروع ہونے والے تنازع کے باعث اب تک دس ہزار افراد ہلاک ہوئے جب کہ 15 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

افریقی تنظیم کے ایک مصالحت کار سیوم میسفن کا کہنا تھا کہ اس تازہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور افریقی یونین کو مطلع کیا جائے گا۔

یہ دونوں تنظیمیں متنبہ کر چکی ہیں کہ جنوبی سوڈان میں امن کو خراب کرنے والوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

جنوبی سوڈان دنیا میں معرض وجود میں آنے والا سب سے نیا ملک ہے اور تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔

XS
SM
MD
LG