رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت کے طلبہ کے درمیان ’دوستی پیغامات‘ کا تبادلہ


پاکستان و بھارت کے طلبا کے خطوط

پاکستان و بھارت کے طلبا کے خطوط

'ایکسینج فار چینج' نامی اس مہم میں پاکستان اور بھارت کے10 سے 14 سال تک کی عمر کے 3500 طلبا نے حصہ لیا۔ اس مہم میں پاکستان کے شہر کراچی، لاہور اور رولپنڈی جبکہ بھارتی شہر دہلی، ممبئی اور چندی گڑھ کے اسکولز شامل ہیں۔

پاکستان اور بھارت موجودہ دور کی ایسی سرحدیں ہیں جو تقسیم سے قبل ایک ہی مملکت کہلاتی تھیں مگر 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد بھارت اور پاکستان کے ہزاروں لوگ بھی جدا ہوگئے جو بھارت چھوڑ آئے وہ پاکستان میں بس گئے جو وہیں رہے وہیں کے ہو رہے۔

پاکستان اور بھارت ایشیا کے دو اہم ممالک میں شمار ہوتے ہیں جہاں کا کلچر، تہزیب اور بہت سی چیزیں ملتی جلتی ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات یوں تو اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں مگر دونوں ممالک کے عوام کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط بنائے جائیں۔

دوستی کی کوششوں میں ان دونوں ممالک کے طالبعلم بھی کسی سے پیچھے نہیں جنہوں نے آپس میں خطوط کے تبادلے کے ذریعے دوستی اور امن کے پیغامات ایک دوسرے کو بھجوائے۔

کراچی کی صادقین آرٹ گیلری میں ان خطوط کی نمائش پیش کی گئی۔ رابطوں کے اس سلسلے میں ہاتھ سے لکھے خطوط، رنگ برنگی پینٹنگز اور مختلف تصاویر کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔

ان خطوط میں دونوں ممالک کے طلباء نے اپنے اہنے ملک کے رسم و رواج اور لائف اسٹائل کا تبادلہ کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے کھانوں، تہواروں اور مختلف شہروں کی یادگاروں اور دیگر روایات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

یہی نہیں طلبا و طالبات نے آڈیو اور ویڈیو پیغامات کے بھی تبادلے کئے ہیں۔ ان آڈیو پیغامات میں پاکستانی و بھارتی طالبعلموں نے دیگر شہروں کے بزرگوں سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے جسمیں انھوں نے پاکستان اور بھارت کی تقسیم سے قبل کا حال بیان کیا ہے۔

'ایکسینج فار چینج' نامی اس مہم میں پاکستان اور بھارت کے10 سے 14 سال تک کی عمر کے 3500 طلبا نے حصہ لیا ہے۔ اس مہم میں پاکستان کے شہر کراچی، لاہور اور رولپنڈی جبکہ بھارتی شہر دہلی، ممبئی اور چندی گڑھ کے اسکولز شامل ہیں۔

اس مہم کا آغاز 2010ء میں کیا گیا تھا جسمیں 2012ء تک 2400 طلبا شریک ہوئے جبکہ 2012ء سے 2013ء تک اس مہم میں تقریباً 3500 شریک ہوئے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG