رسائی کے لنکس

1970ء کی دہائی میں پاکستان کے آئین میں احمدیہ برادری کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے اس فرقے کے لوگ امتیازی سلوک کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے "پیمرا" نے دو نجی ٹی وی چینلز کے پروگراموں کے خلاف احمدیہ فرقے کی شکایات کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔

احمدیہ فرقے سے تعلق رکھنے والوں نے پیمرا کو درخواست دی تھی کہ ٹی وی چینل "92 نیوز" کے پروگرام صبح نور اور "نیو" چینل کے پروگرام حرف راز میں مبینہ طور پر احمدیہ فرقے کے لوگوں کے خلاف اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

پیمرا ان درخواستوں کا جائزہ لینے کے لیے لاہور میں اپنے شکایات کے محکمے کا اجلاس بلایا جس میں فریقین کو بھی دعوت دی گئی تھی۔

لیکن جمعرات کو اجلاس سے قبل ہی یہاں ایک بڑی تعداد میں مذہبی راہنما اور وکلا پہنچ گئے اور انھوں نے احمدیہ فرقے کے خلاف نعرے بازی کی۔

شکایات سننے والی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کا فیصلہ یہ تھا کہ احمدیہ فرقے کو پاکستان کے آئین میں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور ساتھ ہی آئین میں تمام مذہبی اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے کا بھی کہا گیا تو وہ اس کے مطابق ہی فیصلہ کریں گے۔

تاہم ان کے بقول وہاں آنے والے ہجوم کی وجہ سے سماعت کی کارروائی نہیں ہو سکی۔

"میں نے ان سے درخواست کی ابھی ہم نے یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ یہ درخواستیں قابل سماعت ہیں یا نہیں مگر یہ حالات آپ نے پیدا کیے ہیں اس میں فیصلہ نہیں ہو سکتا۔"

بعد ازاں پیمرا کی طرف سے ایک بیان میں ان درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کرنے کا بتایا گیا۔

1970ء کی دہائی میں پاکستان کے آئین میں احمدیہ برادری کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے اس فرقے کے لوگ امتیازی سلوک کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ انھیں پیمرا نے بلایا تھا لیکن "بڑی تعداد میں علما اور وکیل اور دوسرے لوگ وہاں پہنچ گئے اور انھوں نے سماعت کا ماحول ہی نہیں بننے دیا ہمیں دو گھنٹے وہاں بٹھائے رکھا گیا۔"

ان کے بقول پیمرا نے بظاہر یہ فیصلہ دباؤ میں آ کر کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG