رسائی کے لنکس

عامر لیاقت کا پروگرام پابندی کے باوجود نشر کرنے پروضاحت طلب


نوٹس جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ عامر لیاقت اور پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا ‘پر فوری اور مکمل پابندی عائد کئے جانے کے باوجود ناصرف پروگرام آن ائیر کیا گیا بلکہ اس کی تشہیر بھی کی گئی لہذا انتظامیہ وضاحت پیش کرے کہ اس نے پیمرا احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی؟

پاکستا نی ٹی وی چینلز سے مختلف پروگرامز اورشوز کرنے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ان دنوں نجی ٹی وی چینل’ بول‘ سے پیش ہونے والے پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا’ کے حوالے سے ملک میں ایک مرتبہ پھر زیر بحث ہیں۔

جمعرات کو اس پروگرام پر پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پابندی عائد کردی تھی لیکن اس کے باوجود جمعرات کی شب پروگرام نشر ہوا جس پر چینل انتظامیہ سے جمعہ کو ایک نوٹس کے ذریعے پیمرا نے وضاحت طلب کرلی ہے ۔

نجی ٹی وی چینل ’بول ‘ کو پیمرا کے احکامات کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ عامر لیاقت اور پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا ‘پر فوری اور مکمل پابندی عائد کئے جانے کے باوجود ناصرف پروگرام آن ائیر کیا گیا بلکہ اس کی تشہیر بھی کی گئی لہذا انتظامیہ وضاحت پیش کرے کہ اس نے پیمرا احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی؟

عامر لیاقت ’ایسے نہیں چلے گا ‘میں ہر رات مختلف اہم ملکی معاملات پر تبادلہ خیال پیش کرتے ہیں جن میں ان کی جانب سے مذہب ، ملک کے خفیہ اور سیکورٹی اداروں و دیگر حساس ترین موضوعات پر بھی اظہار خیال کیا جاتاہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے اس پروگرام میں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والےاور سوشل میڈیا پر سرگرم پانچ بلاگرز کی گمشدگی اور ان کی جانب سے مبینہ طور پر توہین مذہب کے الزامات پر بحث جاری تھی۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کا الزام ہے کہ دوران بحث پروگرام میں عامر لیاقت حسین نفرت انگیز مواد کا پرچار کرنے کے مرتکب ہوئے لہذا پیمرا نے جمعرات کی شام عامر لیاقت حسین اور ’ایسے نہیں چلے گا‘ پر پابندی عائد کردی لیکن پابندی کے باوجود جمعرات کو عامر لیاقت حسین نے اپنا پروگرام معمول کے مطابق اور اپنے مقررہ وقت پر پیش کیا۔

پروگرام کے نشر ہونے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ ’بول ‘ کے اس اقدام کے بعد پیمرا کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ ؟ ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے اس بارے میں کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

پیمرا نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر’ بول‘ نے ادارےکی ہدایات پر فوری عمل درآمد نہیں کیا تو چینل نشریات فوری طور پر معطل کر دی جائیں گی تاہم نشریات تاحال جاری ہیں البتہ جمعہ کی شب ’ایسے نہیں چلے گا‘ نشر نہیں ہوا ۔

وہ او اے نے پابندی کے باوجود پروگرام نشر کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا ذاتی موقف جاننے کے لئے جمعہ کی رات کئی گھنٹوں کے دوران متعدد مرتبہ انہیں فون کیا لیکن ان کا موبائل مسلسل بند جاتا رہا۔

جمعرات کی رات پیش ہونے والے پروگرام میں عامر لیاقت حسین نے پابندی سے متعلق جو رائے دی اس میں پابندی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے اپنے اوپر نفرت آمیز مواد کا پرچار کرنے کے الزام سے انکار کیا اور کہا کہ پیمرا کے سربراہ جانب داری سے کام لے رہے ہیں۔ ماضی میں وہ جس ٹی وی چینل پر ملازمت کرتے رہے ہیں اب بھی اسی کی حمایت کررہے ہیں۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ پیمرا نے پابندی لگاکر توہین عدالت کی ہے کیوں کہ قانوناً پیمرا عدالت کو بتائے بغیر پابندی نہیں لگاسکتا۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ پروگرام پر پابندی کا فیصلہ آزادی اظہار پرقدغن لگانا ہے جبکہ ملکی آئین کے مطابق ہر شخص کو اظہار آزادی کا حق حاصل ہے۔ اگر پروگرام پر اس لئے پابندی لگائی جارہی ہے کہ یہ توہین مذہب کا مرتکب ہوا ہے تو باقی چینلز جو ماضی میں توہین مذہب کے مرتکب ہوئے انہیں کیوں نہیں روکا گیا۔

اپنے موقف کی تائید میں عامر لیاقت حسین نے دیگر چینل کے ویڈیو کلپس بھی نشر کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے کر جائیں گے اور ثابت کردیں گے کہ ان پر اظہار رائے کی آزادی کے غلط استعمال اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔

اینکر اور پروگرام کی بندش پر ملا جلا رد عمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جہاں بیشمار لوگوں نے بندش کی کھل کر مخالفت کی ہے وہیں انگنت لوگوں نے اس پابندی کے حق میں بھی اپنی رائے دی ہے۔ چینل کی جانب سے مختلف مقامات پر بندش کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جبکہ چینل متعدد سیاسی رہنماؤں کو اپنے ساتھ کھڑے رہنے کا دعویٰ بھی کررہا ہے۔ ان میں پی ایس پی رہنما مصطفیٰ کمال اور سابق وزیر اعجاز الحق بھی پیش پیش ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر سعید غنی کا کہنا ہے کہ "کچھ نیا نہیں ہونے والا۔ ‘‘

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG