رسائی کے لنکس

'غیر ذمہ دارانہ نشریات' پر دو ٹی وی چینلز کے لائسنس معطل 


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صحافیوں اور الیکڑانک میڈیا کے نمائندوں نے پیمرا کی طرف سے ٹی وی چینلز کی نشریات معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف اتوار کو لاہور میں احتجاج کیا اور پیمرا سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے (پیمرا) نے عدالت عظمیٰ کے ایک جج پر مبینہ 'بہتان تراشی' اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف 'غیر ذمہ دارانہ تبصرے' نشر کرنے پر دو نجی ٹی وی چینلز 'دن نیوز' اور 'نیو ٹی وی' کے لائسنس معطل کر دیے ہیں جبکہ ایک تیسرے ٹی وی چینل 'سچ ٹی وی' پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔

پیمرا کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق تینوں ٹی وی چینلز کو سپریم کورٹ کے جج سے متعلق غیر ذمہ دارانہ تجزیہ و تبصرہ نشر کرنے اور ان کے بارے میں غیر شائستہ الفاظ استعمال کرنے پر گزشتہ ہفتے اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے کہا گیا کہ وہ 26 نومبر کو تحریری طور پر پیمرا کو اپنے موقف سے آگاہ کریں۔ تاہم پیمرا کا کہنا ہے کہ متعلقہ تینوں ٹی وی چینلز پیمرا کے سامنے تحریری اور نمائندوں کے ذریعے پیش کیے گئے اپنے موقف سے اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔

جس کے بعد پیمرا نے دن نیوز چینل کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اس کا لائسنس 30 روز کے لیے معطل کرنے کے علاوہ دس لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ اسی طرح کی تادیبی کارروائی نیو ٹی وی کے خلاف بھی کی گئی تاہم اس کا لائسنس صرف سات روز کے لیے معطل کیا گیا ہے۔

تاہم پیمرا کا کہنا ہے ان فیصلوں کا اطلاق یکم دسمبر دن بارہ بجے سے ہو گا۔

صحافیوں اور الیکڑانک میڈیا کے نمائندوں نے پیمرا کی طرف سے ٹی وی چینلز کی نشریات معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف اتوار کو لاہور میں احتجاج کیا اور پیمرا سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

سینیئر صحافی پرویز شوکت نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پیمرا کے اس فیصلے کو انتہائی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ٹی وی چینل کی نشریات کو معطل کر دینا کسی طور مناسب نہیں ہے۔

"میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم کو اس کا نوٹس لینا چاہیئے اور پیمرا کے فیصلہ کو واپس لینا چاہیئے۔ اگر کسی چینل کی پالیسی غلط ہوئی ہے تو تمام ملازمین کو سزا کیوں دی جا رہی ہے۔۔۔ پیشہ وارانہ اخلاقیات کا ہم لوگوں کو بھی خیال رکھنا چاہیئے اور کسی کی ذات پر کیچڑ اچھالنا یہ اخلاقیات کے خلاف ہے۔۔۔تمام اینکرز کو (صحافتی) اخلاقیات کی پابندی کرنی چاہیئے۔"

پرویز شوکت نے کہا کہ اس طرح کے واقعات پیش آنے کی ایک وجہ ٹی وی پروگراموں کے بعض میزبانوں کی مناسب تربیت نا ہونا ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹی وی پروگراموں کی میزبانی کرنے والوں کی مناسب تربیت اور صحافتی اصولوں سے آگاہی سے ٹی وی پروگراموں کو معیاری بنایا جا سکتا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان میں کئی ٹی وی چینلز کو پیمرا کے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی میں پروگرام نشر کرنے پر تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ گزشتہ ہفتے ہی پیمرا نے ملک میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 11 مسیحی ٹی وی چینلز کو بند کر دیا تھا۔

پیمرا کا کہنا ہے کہ ان ٹی وی چینلز کے خلاف بھی اسی طرح کارروائی کی گئی جس طرح دیگر غیر قانونی طور پر کام کرنے والے ٹی وی چینلز کے خلاف کی گئی تھی اور اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG