رسائی کے لنکس

پینٹاگون کی صومالیہ میں امریکی ڈرون گرنے کی تردید


فائل

فائل

وائس آف امریکہ بھیجی گئی ایک اِی میل میں، پینٹاگان کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کے افریقہ میں تمام اثاثے محفوظ ہیں اور ''ہمیں اس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے''


پینٹاگان نے الشباب کی اِن رپورٹوں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پیر کو ایک امریکی ڈرون طیارہ صومالیہ کے جنوب مغربی علاقےمیں گر کر تباہ ہوا۔

الشباب نواز ویب سائٹوں پریہ بات شائع ہوئی تھی کہ ڈرون جس پر چھ میزائل نصب تھے غیدو کے علاقے میں باغیوں کے زیر قبضہ شاندار نامی گائوں میں گر گیا ہے۔

شدت پسندوں نے اپنے مقامی ریڈیو اسٹیشن پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ اُنھوں نے اس ڈرون کو ایک محفوظ مقام کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔ صومالی سکیورٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرون گرنے کے بارے میں وہ فوری طور پربیان نہیں دے سکتے۔

وائس آف امریکہ بھیجی گئی ایک اِی میل میں، پینٹاگان کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کے افریقہ میں تمام اثاثے محفوظ ہیں اور ''ہمیں اس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے''۔

ایک اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ صومالی حکومت نے ڈرون کے حادثے کے بارے میں خبر سنی ہے، لیکن اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ اس کا مالک کون تھا۔

اہل کار کے بقول، ‘’ہم نے یہ خبر سنی ہے اور اس بات کا پتا ہے کہ گذشتہ ماہ ایک فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد، اُس علاقے میں ڈرون اور لڑاکا طیارے کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ''

یہ اڈا کینیا کی فوج کے زیر استعمال تھا جو افریقی یونین کی فوج کا حصہ ہے۔ لیکن، ہم اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ یہ کس کا ڈرون تھا۔’’

گذشتہ کچھ برسوں کے دوران امریکی فوج نے صومالیہ میں کئی ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں الشباب کے چوٹی کے ارکان کو ہلاک کیا گیا ہے۔

یہ باغی گروپ صومالیہ میں سخت گیراسلامی شریعت کانفاذ چاہتا ہے۔

اس شدت پسند گروہ نے صومالیہ اور اس کے گرد و نواح میں کئی دہشت گرد حملے کیے ہیں۔




XS
SM
MD
LG