رسائی کے لنکس

امریکی اعلی ٰ دفاعی عہدے داروں میں تبدیلی کے ممکنہ اثرات

  • میریڈیتھ بیول
  • آمنہ خان

امریکی اعلی ٰ دفاعی عہدے داروں میں تبدیلی کے ممکنہ اثرات

امریکی اعلی ٰ دفاعی عہدے داروں میں تبدیلی کے ممکنہ اثرات

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے اعلان کے ساتھ ہی امریکی محکمہ دفاع میں قیادت تبدیل ہو رہی ہے ۔ اس ہفتے کے آخر تک رابرٹ گیٹس کی جگہ اوباما انتظامیہ کے سابق سی آئی اے سربراہ لیون پنیٹا امریکی وزیر دفاع کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں ۔ چار دہائیوں تک امریکہ کے آٹھ مختلف صدور کے لئے خدمات انجٕام دینے والے رابرٹ گیٹس اپنے پیچھے کیا وراثت چھوڑ کر جا رہے ہیں اور افغانستان کے لئے امریکی حکمت عملی کے اس نازک مرحلے پرلیون پنیٹا کا قیادت سنبھالنا کیا معنی رکھتا ہے ۔

امریکہ گزشتہ دس سال سے حالت جنگ میں ہے ، اور امریکی فوج پر جو لازمی بھرتی کے قانون کے تحت تیار نہیں کی گئی، برسوں پر محیط اس جنگ کی تھکن واضح ہونے لگی ہے ۔ افغانستان میں ہلاک ہونےو الے امریکی فوجیوں کی تعداد 1500 تک پہنچ چکی ہے اور امریکی عوام میں جنگ سے بیزاری بڑھتی جارہی ہے۔

افغانستان میں موجود تقریبا ایک لاکھ امریکی فوج کی ایک تہائی تعداد،اگلے سال کے آخر تک افغانستان سے واپس بلا لی جائے گی، لیکن امریکہ کے نئے سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا کہتے ہیں کہ ابھی بہت سا کام باقی ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ محکمہ دفاع میں میرا پہلا کام یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جن تنازعوں میں ہم گھرے ہیں ان میں ہمیں کامیابی حاصل ہو ۔ افغانستان میں ہمیں طالبان کو شکست دینی ہے ۔

ٹریوس شارپ واشنگٹن کے سینٹر فار امیرکن سیکیورٹی سے منسلک ہیں ، اور کہتے ہیں کہ لیون پنیٹا کے لئے افغانستان سے فوج کا انخلاء بےحد اہم ہوگا۔

لیون پنیٹا سی آئی اے کے وہ سربراہ ہیں ، جن کی نگرانی میں امریکی نیوی سیلز نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف کامیاب کارروائی کی تھی۔ پنیٹا پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر القائدہ اور طالبان کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کے حامی ہیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا کے اس حصے میں سی آئی اے کی تاریخ کی سب سے جارحانہ کارروائیاں کر رہے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی قیادت منتشر ہو گئی ہے ۔

ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان میں سخت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے ۔ایسے میں امریکہ کے اگلے وزیر دفاع کے لئے پاکستانی قیادت سے تعلقات ایک اہم امتحان قرار دیئےجا رہے ہیں ۔ ٹریوس شارپ کہتے ہیں کہ لیون پنیٹا امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک اہم رابطہ کار ہونگے ۔

لیون پنیٹا ڈیمو کریٹک پارٹی کے سابق رکن کانگریس ہیں ، جنہیں امریکی بجٹ پر کام کرنے کا زبردست تجربہ بھی ہے ۔ انہوں نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دور میں وہائٹ ہاؤس کے بجٹ آفیسر کےطور پر بھی کام کیا تھا۔

امیرکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے اہم دفاعی تجزیہ کار گیری شمٹ کہتے ہیں کہ لیون پنیٹا کا سب سے اہم چیلنج محکمہ دفاع کے بجٹ میں کٹوتیوں سے نمٹنا ہوگا ۔ ان کا کہناہے کہ اگر انتطامیہ کے بس میں ہو تو وہ مزید ہزاروں ڈالرز کی کٹوتیاں کریں ۔ جس کا مطلب ہے کہ امریکہ کے پورے فوجی ڈھانچے میں کٹوتیاں کرنی ہونگی ۔

صدر اوباما نے اگلے بارہ سال کےدوران قومی سلامتی کے امریکی بجٹ سے چار سو ارب ڈالرز کی کٹوتی کا حکم دیا ہے ۔ جوگیارہ 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکی محکمہ دفاع کے بجٹ میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہوگی ۔

امریکی بجٹ کا خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے ، اور امریکی فوج افغان جنگ پرہر مہینے دس ارب ڈالرز خرچ کر رہی ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دو اہم جنگوں سے فوج واپس بلانا اخراجات پر قابو پانے میں مدد دے گا ۔

اطالوی تارکین وطن کی اولاد لیون پنیٹا کو ، جو 1960ء کی دہائی میں امریکی فوج میں بھی شامل ہوئے ، سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کی کمی پوری کرنی ہے ، جو دو غیر مقبول جنگوں کی قیادت کر کے گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکی محکمہ دفاع کی انتہائی ناگزیر شخصیت بن چکے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG