رسائی کے لنکس

البغدادی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں: پینٹاگون


فائل

فائل

امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے کہا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے سربراہ کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاعات کی تصدیق نہیں کرسکتے۔

امریکی محکمۂ دفاع نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی امریکی فضائی حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے سے متعلق قیاس آرائیوں کی تصدیق یا تردید کرنے سے معذرت ظاہر کی ہے۔

جمعے کو عراق کے دو مختلف مقامات پر دولتِ اسلامیہ کے مبینہ ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملوں کے بعد بعض عرب اور مغربی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں کا ہدف دولتِ اسلامیہ کی اعلیٰ قیادت تھی۔

ذرائع ابلاغ نے بعض عراقی اہلکاروں کے حوالے سے کہا تھاکہ جن مقامات پر حملے کیے گئے وہاں دولتِ اسلامیہ کے رہنماؤں کے اجلاس ہورہے تھے جن میں امکان ہے کہ ابو بکر البغدادی بھی شریک تھا۔

تاہم پیر کو 'پینٹاگون' میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے کہا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے سربراہ کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاعات کی تصدیق نہیں کرسکتے۔

'پینٹاگون' کی اس معذرت سے قبل امریکی فوج کی 'سینٹرل کمانڈ' کے ترجمان میجر کرٹس کیلوگ نے کہا تھا کہ انہیں اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی روشنی میں یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ گزشتہ ہفتے عراق کے شمالی شہر موصل اور مغربی شہر القائم پر کیے جانے والے امریکی فضائی حملوں میں ابو بکر البغدادی ہلاک یا زخمی ہوا ہے۔

تاہم بعض عراقی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ دونوں حملوں میں ابو بکر البغدادی کے بعض قریبی ساتھیوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا امکان ہے لیکن اس بارے میں بھی تاحال تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

دریں اثنا عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ فلوجہ شہر کے نزدیک اتحادی افواج کے ایک فضائی حملے میں ابو بکر البغدادی کا قریبی ساتھی مارا گیا ہے۔

عراقی ٹی وی کے مطابق فضائی حملے میں ہلاک ہونے والا شخص مبینہ طور پر ابو حذیفہ الیمنی ہے جسے سرکاری ٹی وی نے دولتِ اسلامیہ کے سربراہ کا قریبی ساتھی قرار دیا ہے۔

تاہم ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ مذکورہ حملہ کب اور کہاں کیا گیا اور اس کے نتیجے میں مزید کیا نقصانات ہوئے ہیں۔

عراقی کے سکیورٹی حکام نے بھی مذکورہ رہنما کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ الیمنی واقعتاً ابو بکر البغدادی کا قریبی ساتھی تھا۔

خیال رہے کہ دارالحکومت بغداد کے مغرب میں واقع فلوجہ شہر سنی اکثریتی صوبے الانبار کا صدر مقام ہے اور دولتِ اسلامیہ کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔

XS
SM
MD
LG