رسائی کے لنکس

حوادث زمانہ دیکھئے کہ پہلے دور میں یہ پوچھا جاتا تھا کہ ’آپ کے بیٹے نے میٹرک کرلیا؟‘ اور آج یہ زمانہ ہے کہ لوگ پوچھتے پھر رہے ہیں: ’کیا آپ کی سم نے میٹرک کرلیا؟‘وقت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ بھلے ہی کسی نے میٹرک کیا ہو یا نہ کیا ہو۔۔اس کی موبائل سم ’بائیومیٹرک‘ ضرور ہونی چاہئے

کراچی میں ان دنوں آپ کو تنگ و تاریک گلی محلوں اور چھوٹے موٹے بازاروں میں بھی لائنیں لگی مل جائیں گی۔ جدھر دیکھئے قطاریں ہی قطاریں۔ جس سے بات کیجئے سم ہی سم، تصدیق ہی تصدیق کی باتیں کررہا ہے۔۔اب تو لوگ ایک دوسرے کو میسج بھی کچھ اس طرح کے بھیجتے ہیں: ’کیا آپ کی سم نے میٹرک کر لیا؟‘

اب تک کی اطلاع کے مطابق، جمعرات 26 فروری موبائل فون سم کی بائیومیٹرک ویریفیکیشن یا تصدیق کی آخری تاریخ ہے۔ اس کے بعد ’بمطابق حکم سرکار‘ غیر مصدقہ سمز کو بند کردیا جائے گا۔ اور چونکہ فی زمانہ روٹی، کپڑا اور دوا ’دارو‘ کی طرح ہی موبائل فون سب سے لازمی شہ مانی جاتی ہے، لہذا سب کے سب خوف کے مارے لائنیں لگائے کھڑے ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ پچھلے کئی ہفتوں سے نئی موبائل سمز کی فروخت بند ہے اور فرنچائز سے لیکر عارضی دکانوں، پتھاروں، اسٹالز، دفاتر، چوراہوں، شاپنگ مالز اور فیملی فیسٹیولز تک میں موبائل فون کمپنیز سموں کی تصدیق کر رہی ہیں۔ ہاں علاقے کے لحاظ سے اس کے ریٹ مختلف ہیں۔ کچھ علاقوں میں دس، کچھ میں پندرہ اور کچھ میں بیس روپے میں تصدیق ہورہی ہے۔

اس سلسلے میں، وائس آف امریکہ نے کچھ مبصرین اور تصدیق کی غرض سے لائنوں میں لگے متعدد لوگوں سے گفتگو کی۔ کچھ مبصرین کا کہنا تھا کہ سم ویریفیکیشن کی یہ مہم بہت موٴثر ثابت ہوئی ہے۔ کروڑوں اور اربوں روپے خرچ ہوگئے مگر انسدادپولیو کی مہم لگتا ہے وہیں کی وہیں ہے، جبکہ سمز کی تصدیق کے لئے تو لوگ وقت اور پیسہ دونوں خرچ کررہے ہیں۔

ان مبصرین کے تئیں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سموں کی یہ تصدیقی مہم بھی ایک نہایت موٴثر ہتھیار ثابت ہوگی۔ جو لوگ لائنوں میں کھڑے ہیں وہ البتہ کچھ کچھ جھنجھلائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فرنچائزز کے کھلنے سے بھی کئی کئی گھنٹوں پہلے سے لائنوں میں لگے ہیں۔

فائیو اسٹار نارتھ ناظم آباد شہر کی ایسی بہت سی جگہوں میں سے ایک ہے جہاں ملک کی پانچوں موبائل فون کمپنیز یعنی ’وارد‘، ’ٹیلی نار‘، ’یوفون‘،’ موبی لنک‘ اور ’زونگ‘ کے دفاتر ہیں، اس لئے یہاں صبح سات بجے سے رات تک لوگوں کی قطاریں دیکھی جاسکتی ہیں۔

انہی میں سے ایک قطار میں کھڑی ایک کالج اسٹوڈنٹ نمرا نے بتایا کہ، ’مسئلہ یہیں تک محدود نہیں ہے، مشکل یہ بھی ہے کہ اگر آپ کے انگھوٹھے کی تصدیق کمپیوٹرآئز شناختی کارڈ سے میچ نہیں ہوتی تو ’نادرا‘ کے آفس جانا پڑتا ہے اور وہاں بھی گھنٹوں لمبی لمبی لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔‘

سخت اقدامات کی خبریں
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشنز اتھارٹی کے حوالے سے کچھ اس قسم کی خبریں بھی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں کہ پی ٹی اے نے غیرملکیوں اور افغان مہاجرین کے لیے موبائل فون سم کا اجرا ویلڈ ویزا اور سم کے غیر قانونی استعمال نہ کرنے سے متعلق بیان حلفی سے مشروط کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا ہے، جبکہ کوئی بھی غیرملکی کسی بھی فرنچائز سے سم نہیں خرید سکے گا۔ مزید یہ کہ ویزا کی مدت ختم ہوتے ہی سم بند کردیئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ افغان مہاجرین کی سم بھی پاکستان میں قیام کی اجازت ختم ہوتے ہی بند کردی جائیں گی۔

بیشتر مبصرین کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے جرائم و دہشت گرد کاروائیوں میں غیر قانونی سمز کا استعمال روکنے کے لئے اٹھائے جانے والے یہ اقدام یقیناً بہتر نتائج کے حامل ہوں گے۔ اگرچہ اس میں عوام کو کچھ مشکلات بھی ہیں، لیکن ایسا نہ کرنے کی صورت میں سامنے آنے والی ممکنہ انتہائی خطرناک صورتحال کے مقابلے میں یہ تکلیف معمولی ہے۔

کتنا کام ہوا۔۔ کتنا باقی ہے۔۔؟
ملک میں کام کرنے والے پانچوں ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس پی ٹی اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی طور پر 90دنوں میں دس کروڑ 30 لاکھ موبائل فون سمز کی بائیو میٹرک تصدیق ہونا تھی۔ تصدیقی مہم 12جنوری کو شروع ہوئی تھی۔ اس وقت نصف سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے، جبکہ باقی کام دن رات جاری ہے یہاں تک کہ فرنچائزز میں اتوار کو بھی معمول کے کام ہو رہا ہے۔ تصدیق کا یہ عمل دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے۔

اگرچہ جمعرات کو تصدیقی مہم کا پہلا مرحلہ مکمل ہوجائے گا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلوں کو مکمل کرنے میں مزید دو ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

ٹیلی کام ایکسپرٹ، صہیب شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 2014 کے اختتام تک موبائل فون کنکشنز کی تعداد 13کروڑ 57لاکھ 60ہزار تھی۔ اگر حکومت نے تاریخ میں توسیع نہ کی تو اپریل کے وسط تک کروڑوں سمز کے بند ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

XS
SM
MD
LG