رسائی کے لنکس

دنیا میں شخصی آزادیوں کی صورت حال غیر تسلی بخش ہے: فریڈم ہاؤس


دنیا میں شخصی آزادیوں کی صورت حال غیر تسلی بخش ہے: فریڈم ہاؤس

دنیا میں شخصی آزادیوں کی صورت حال غیر تسلی بخش ہے: فریڈم ہاؤس


دنیا بھر میں شخصی آزادیوں کی صورتحال پر نظر رکھنے والے امریکی ادارے فریڈم ہاؤس کی جاری کی گئی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2009ء میں دنیا بھر میں شخصی آزادیوں کی صورتحال میں مسلسل چوتھے سال بھی خراب رہی،جو فریڈم ہاوس کی 40 سالہ تاریخ میں شخصی آزادیوں کی تنزلی کا سب سے طویل دور ہے ۔ادارے کی اس رپورٹ میں دنیا کے 194 ملکوں اور 14 خطوں میں عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق کا جائزہ لیا گیا ہے۔

فریڈم ہاوس کی رپورٹ کے مطابق سال 2009ء شخصی آزادیوں کے لحاظ سے کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا ۔خصوصاً ایران جیسے ملک میں، جہاں صدر احمدی نژاد کے مخالفین نے ان پر انتخابات میں دھاندلی اورمخالفین کی آوازوں کو طاقت سے خاموش کرانےکا الزام عائد کیا ۔ایرانی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں کو حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج سے روک دیا اور انٹرنیٹ سروسز کی رفتار کم کر دی ۔فریڈم ہاؤس کی جاری کردہ اس رپورٹ کو مرتب کیا ہے آرچ پڈنگٹن نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ 2009ء کچھ زیادہ اچھی خبریں نہیں آئیں ، یہ ہمارا مسلسل چوتھاسال تھا جس میں آزادیوں کی صورتحال اتنی خراب ہوئی ہے ۔

رپورٹ میں مشرق وسطی کو دنیا کا سب سے زیادہ جبر کا شکار خطہ قرار دیا گیا ہے ۔جہاں رپورٹ کے مطابق وہاں آباد 88 فیصد لوگوں کی آزادیاں مشکلات کا شکار ہیں۔رپورٹ کے کچھ مندرجات حیران کن بھی ہیں جیسے اس میں کہا گیا ہے کہ کئی دوسرے علاقوں کی طرح انتخابات کی وجہ سے عراق میں شخصی آزادیوں کی صورتحال میں بہتر ی جبکہ اردن کے بارے میں کہا گیا کہ وہاں صورت حال خراب ہوئی ہے۔ آرچ پڈنگٹن کہتے ہیں کہ اردن کی صورتحال کئی حوالوں سے مایوس کن رہی ہے ،جو کچھ ہم نے دیکھا ہے کہ زیادہ قوت بادشاہ اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں تک محدود ہوگئی ہے ۔

کئی افریقی ملکوں میں صورتحال بدترقرار دی گئی ہے ،لیکن یہاں بھی کچھ نتائج حیرت انگیز ہیں ۔ رپورٹ میں کینیا کی صورتحال کو بہتر جبکہ زمبابوے میں رابرٹ موگابے کی صدارت پر تنقید کے باوجود حالات بہتر قرار دیئے گئے ہیں ۔ آرچ پڈنگٹن کہتے ہیں کہ زمبابوے یاد دہانی کراتا ہے کہ الیکشن اتنے ضروری کیوں ہیں ،اور کیسے صدر موگابے کی جیت نے زمبابوے میں عوامی تحریک کا آغاز کیا اور اسے مزید عالمی توجہ کا مرکز بنایا ۔

رپورٹ کے مطابق بر اعظم ایشیا میں بھارت ، انڈونیشیا اور جاپان کے جمہوری انتخابات کی وجہ سے صورتحال بہتر رہی ۔ مالدیپ کو پہلی بار انتخابی جمہوریت قرار دیا گیا ۔تاہم رپورٹ میں برما ، شمالی کوریا اور چین کے زیر انتظام تبت کو جبری صورتحال کا شکار قرار دیا گیا ہے۔ آرچ پڈنگٹن کا کہنا ہے کہ ہم شخصی آزادی کے کسی بھی پیمانے سے دیکھیں ، تبت کی صورت حال سب سے ابتر ہے ۔

فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوسوو کی صورتحال میں انتخابات کے بعد بہتری کی نشاندہی ہوتی ہے،لیکن میناروں کی تعمیر پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے سویٹزر لینڈ کی صورتحال پر بھی عدم اطمینان ظاہر کیا گیا ہے ۔مجموعی طور پر رپورٹ میں محفوظ شخصی آزادیوں والے 79 ملکوں کی تعدادمیں کوئی اضافہ نہیں ہوا مگر غیر محفوظ شخصی آزادیوں والے ملکوں کی تعداد پانچ کے اضافے سے 47 ہو گئی ہے ۔

XS
SM
MD
LG