رسائی کے لنکس

ماحولیاتی تبدیلی: امریکہ چین معاہدہ ’تاریخ ساز پیش رفت‘


پیرو

پیرو

پیرو کے شہر لیما میں جاری اجلاس میں،200 ملکوں کے نمائندے شریک ہیں، جو عالمی حدت میں کمی لانے سےمتعلق ایک نیا معاہدہ وضع کرنے کی غرض سے دسمبر کے آغاز سے ہی اہم مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ نیا سمجھوتا ’کیوٹو پروٹوکول‘ کی جگہ لے گا

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ عالمی درجہٴحرارت میں کمی لانے کے سلسلے میں، امریکہ اور چین کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلی کے اہم معاہدے پر دستخط ایک ’تاریخ ساز پیش رفت‘ ہے۔

بقول اُن کے، ’یہ کہا جاتا تھا کہ امریکہ اور چین وہ دو ممالک ہیں جن کی اِن مذاکرات میں راہیں جدا جدا ہیں، جب کہ اب وہ اِس معاملے پر ایک مشترک سوچ کے حامی بن گئے ہیں۔ یہی تاریخی سنگِ میل ہے اور اس سے ہم سب کو ایک واضح پیغام ملتا ہے کہ اس راہ میں درپیش عشروں پرانی رکاوٹیں ہٹالی گئی ہیں‘۔

کیری نے یہ بات جمعرات کو پیرو کے شہر لیما میں اقوام متحدہ کے توسط سے منعقدہ موسمیاتی تبدیلی پر اجلاس سے خطاب میں کہی۔

اجلاس میں،200 ملکوں کے نمائندے شریک ہیں، جو عالمی حدت میں کمی لانے سےمتعلق ایک نیا معاہدہ وضع کرنے کی غرض سے دسمبر کے آغاز سے ہی اہم مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ نیا سمجھوتا ’کیوٹو پروٹوکول‘ کی جگہ لے گا، جس عالمی معاہدے کی میعاد سنہ 2012میں ختم ہوئی۔ لیما کا عالمی اجلاس اگلے دسمبر میں پیرس میں ہونے والی کانفرنس کے لیے ایجنڈہ طے کرے گی، جس پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔


گذشتہ ماہ، چین اور امریکہ نے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے، جن ملکوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ کاربن گیس کے اخراج کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔

امریکہ نے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ 2025ء تک 26 سے 28 فی صد شرح تک کمی لائی جائے گی۔ اور پہلی بار، چین ایک نظام الاوقات پر رضامند ہوا ہے، جس کا کہنا ہے کہ کوئی اقدام نہ کیا گیا تو 2030ء تک کاربن گیس کا اخراج اپنے عروج پر پہنچ سکتا ہے۔

کیری نے جمعرات کو یہ بھی کہا تھا کہ کرہٴارض پر بسنے والے ہر ملک کی یہ ذمہ داری ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے انسداد میں حصہ ڈالے، کیونکہ یہ صرف امریکہ اور چین کا ذمہ نہیں ہونا چاہیئے۔
ترقی پذیر ملکوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے انسداد کے حوالے سے امیر ممالک کی ذمہ داری زیادہ ہے۔

تاہم، کیری نے کہا ہے کہ کرہٴارض پر کاربن گیس کے اخراج کے نصف حصے کے ذمہ دار غریب ممالک ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ لازم ہے کہ وہ بھی اس ذمہ داری میں حصہ لینے کے لیے آگے بڑھیں، تاکہ مستقبل کے توانائی کے وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

کیری نے کہا کہ، ’یہ ہاتھ ہاتھ پر دھرے بیٹھنے کا وقت نہیں، نا ہی یہ کیڑے نکالنے کا وقت ہے کہ کون ماحول کو زیادہ پراگندہ کر رہا ہے، یا ذمہ داری نبھانے میں شریک ہو رہا ہے یا نہیں۔


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ چین معاہدہ حکمت عملی کے اعتبار سے اچھی پیش رفت ہے، جس کے باعث دیگر اقوام میں جذبہ پیدا ہوگا کہ وہ بھی آگے بڑھ کر عالمی درجہ حرارت میں کمی لانے کی کوششوں میں شریک ہوں۔

لیما میں شریک وفود ایک ایسے سمجھوتے پر پہنچنے کی کوششیں کر رہے ہیں جس سے گرین ہاؤس گیسز میں کمی لائی جاسکے، جو عالمی درجہٴحرارت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔

سائنس دانوں نے متنبہ کیا ہے کہ شدید قحط سالی، سیلاب اور سمندروں کی سطح میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا، اگر کوئلے سے پیدا ہونے والی گیسز کے اخراج میں کمی نہیں لائی جاتی۔

XS
SM
MD
LG